بش پر عراق کے حوالے سے تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں حزب مخالف ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان نے صدر جارج بش پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عراق کے بارے میں تلخ فیصلے کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور انہیں اگلے صدارتی انتخابات تک التواء میں رکھنا چاہتے ہیں۔ صدر بش کی طرف سے عراق کے بارے میں حکمت عملی میں واضح تبدیلی کے اعلان کو جس میں فوجوں کے انخلاء کو جولائی کے بعد معطل کیا جانا بھی شامل ہے ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ فوجوں کے انخلا کو مؤخر کیئے جانے سے جنرل ڈیوڈ پیٹرس کو عراق کی صورت حال کا جائزہ لینےکا موقع ملے گا۔ تاہم صدر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عوام صدر سے ان سوالوں کا جواب چاہتے ہیں۔ عراق سے فوجوں کے انخلا کو مؤخر کیئے جانے کا مطلب ہے امریکی فوجی جنوری سن دو ہزار نو کے بہت بعد تک عراق میں موجود رہیں گی۔ جنوری سن دو ہزار نو میں صدر بش کی جگہ اکتوبر میں صدارتی انتخابات جیتنے والا امیدوار صدارتی عہدہ سنبھال لے گا۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سپیکر نیسی پلوسی نے کہا ہے کہ صدر بش ان سوالوں کا جواب دینے میں ناکام رہیں کہ آیا کسی صورت حال میں عراق سے امریکی فوجوں کو واپس بلایا جائے گا۔ نینسی پلوسی نے کہا کہ صدر ملک کو ایک ناکام جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے ملک کو شدید خصارے سے دوچار کر دیا اور خصارے کی وجہ سے عوام کو مندی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان سب سوالوں کا جواب صدر سے چاہتے ہیں۔ جولائی تک عراق میں موجود امریکی فوج کی بیس بریگیڈ سے پانچ کو واپس بلا لیا جائے اور تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی عراق میں موجود رہیں گے۔ یہ تعداد اتنی ہی ہے جتنی گزشتہ سال عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے سے پہلے تھی۔ صدر کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار سات کے بعد عراق میں فوجی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے واضح ترقی ہوئی ہے اور ’ آج عراق میں حالات قابو میں ہیں۔‘ ڈیموکریٹ پارٹی نے صدر کی طرف سے عراق میں امریکی لڑاکا فوجیوں کی تعیناتی پندرہ ماہ سے کم کر کے بارہ ماہ کرنے کی تعریف تاہم انہوں نے عراق میں امریکی فوج کو رکھنا کو ناقابل قبول قرار دیا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے قائد ہیری ریڈ نے صدر کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریر ایک قدم آگے بڑھانے اور دو قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل پیٹرس اس سال کے آخر میں عراق سے مزید فوجیوں کے انخلاء کے بارے میں اندازہ لگا سکیں گے۔ واشنگٹن میں سیینٹ کے ایک پینل کے سامنے انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی تعداد کو سن دو ہزار سات سے پہلے پر لے جانے کے بعد پہلے صورت حال کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور پھر مزید فوجیوں کو واپس لانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس عراق: پندرہ ہلاک، ملیشیا پر چھاپے بند04 April, 2008 | آس پاس عراق سے انخلاء کا راستہ نہیں:ماہرین07 April, 2008 | آس پاس عراق:مقتدٰی مذاکرات پر’راضی‘07 April, 2008 | آس پاس بغداد میں گاڑیوں کی آمدورفت بند09 April, 2008 | آس پاس فوج کی واپسی پر نظر ثانی کی تجویز09 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||