BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 06:47 GMT 11:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں گاڑیوں کی آمدورفت بند
پانچ برس بعد بھی سکیورٹی کی صورتحال اطمینان بخش نہیں
عراقی پر امریکی افواج کے قبضے کو پانچ برس مکمل ہونے کے موقع پر بدھ کو دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

عراق کی حکومت کے مطابق بدھ کو آدھی رات تک سڑکوں پر گاڑیاں اور موٹر سائکلیں نہیں چل سکیں گی۔

امریکی افواج نے پانچ سال قبل آج ہی کے دن شہر کے وسط میں واقع مغزول صدر صدام حسین کے ایک قدآدم مجسمے کو توڑا تھا۔ یہ تصاویر دنیا بھر میں دکھائی گئی تھیں اور مجسمے کی مسماری کو صدام حسین کے دور کے خاتمے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

شیعہ ملیشیاء مہدی آرمی کے سربراہ مقتدی الصدر نے پہلے ہی سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے ایک بڑے امریکہ مخالف مظاہرے کا منصوبہ ترک کر دیا تھا۔ بغداد میں شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں مہدی آرمی اور امریکی اور عراقی افواج کے درمیان منگل کو بھی جھڑپیں ہوئیں۔ طبی کارکنوں کے مطابق لڑائی میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔

مقتدی الصدر نے دس لاکھ لوگوں کے مظاہرے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں یہ کہتے ہوئے ارادہ ترک کر دیا کہ مظاہرے میں خون خرابہ ہوسکتا ہے۔

صدر سٹی میں منگل کو بھی جھڑپیں ہوئیں
انہوں نے امریکی اور عراقی افواج کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ بندی کی وجہ سے گزشتہ برس سے عراق میں تشدد کا زور ٹوٹا ہے۔

مقتدی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اگر ضروری ہوا تو اپنے اغراض و مقاصد، نظریات، مذہب اور اصولوں کی خاطر ہم جنگ بندی ختم کر دیں گے۔‘

پیر کے روز عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا تھا کہ مہدی آرمی اگر غیر مسلح نہیں ہوتی تو مقتدی الصدر کو سیاست میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔

اتوار کو سرکردہ امریکی ماہرین نے عراق کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے امریکی افواج وہاں ایک لمبی اور مہنگی لڑائی میں پھنس سکتی ہیں۔

امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے پیس ( یو ایس آئی پی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیاسی پیش رفت اتنی کم اور اتنی سست ہے، اور سیاسی اور سماجی تقسیم اتنی زیادہ ہے، کہ امریکہ عراق سے نکلنے سے آج بھی اتنا ہی دور ہے جتنا کہ ایک سال پہلے تھا۔

اسی بارے میں
عراق اور امریکی مشکالات
14 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد