’عراق سے انخلاء کا راستہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکردہ امریکی ماہرین کے مطابق عراق میں سیاسی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے امریکی افواج وہاں ایک لمبی اور مہنگی لڑائی میں پھنس سکتی ہیں۔ امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے پیس ( یو ایس آئی پی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیاسی پیش رفت اتنی کم اور اتنی رک رک کر ہو رہی ہے، اور سیاسی اور سماجی تقسیم اتنی زیادہ ہے، کہ امریکہ عراق سے نکلنے سے آج بھی اتنا ہو دور ہے جنتا کہ ایک سال پہلے تھا۔ اسی پس منظر میں عراق میں تین امریکی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے جبکہ اکتیس زخمی ہوئے ہیں۔ ایک فوجی گرین زون کے اندر ہلاک ہوا جب مزاحمت کاروں نے فوج کے ٹھکانوں پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔ اتوار سے امریکی فوج اور عراقی جنگجؤوں کے درمیان لڑائی میں کم سے کم بیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ بغداد کے علاقے صدر سٹی میں ہونے والی ان جھڑپوں میں تقریباً سو لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یو ایس آئی پی کے مطابق عراق میں موجودگی کا امریکہ کو جانی اور مالی دونوں ہی لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ انہیں ماہرین نے تیار کی ہے جنہوں نے عراقی سٹڈی گروپ کی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کی تھی اور یہ ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس اور بغادا میں امریکی سفیر رائن کروکر امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق میں اگر پیش رفت ہوتی بھی ہے تو اس کے لیے جو قیمت ادا کی جارہی ہے، وہ غیر متناسب ہوگی۔
گروپ کے مطابق عراقی میں امریکی فوجی نفری بڑھائے جانے کی وجہ سے حالات میں کچھ بہتری تو آئی ہے لیکن صورتحال ابھی بھی نازک ہے اور عراقی حکومت پر اب امریکہ کا زیادہ اثر رسوخ نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق میں سیاسی استحکام لانے کے لیے امریکی افواج کو پانچ سے دس سال تک غیر مشروط طور پر عراق میں رہنا ہوگا۔ ’ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ جنوبی عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کے خلاف عراقی حکومت کی کارروائی کا استحکام پر کیا اثر پڑتا ہے۔۔۔ ناکامی کی صورت میں عراقی حکومت کو کمزور سمجھا جائے گا۔‘ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر امریکہ عراق میں موجود رہنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے یا تو مقامی سطح پر انتظامیہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا پھر کوئی ایسا بڑا منصوبہ وضع کرنا چاہیے کہ مختلف عراقی دھڑوں کے اہم اختلافات ختم ہوجائیں۔ رپورٹ میں امریکی کانگریس کی کمیٹی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جنرل پیٹرئیس اور مسٹر کروکر سے پوچھیں کہ کن حالات میں عراق سے امریکی افواج کو واپس بلایا جاسکتا ہے؟ | اسی بارے میں عراق: پندرہ ہلاک، ملیشیا پر چھاپے بند04 April, 2008 | آس پاس ہتھیار نہیں ڈالیں گے: مقتدیٰ الصدر29 March, 2008 | آس پاس بغداد میں کرفیو کے باوجود لڑائی 30 March, 2008 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کی جانب سے فائربندی30 March, 2008 | آس پاس عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||