شام میں عراقی مہاجرین، انسانی المیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اس سال کے شروع میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کی خبروں کے بعد احمد نے اپنے خاندان کے ساتھ دمشق، جہاں وہ گزشتہ اٹھارہ مہنیوں سے مہاجر کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے چھوڑ کر وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ جائداد کی خریدو فروخت کرنے والے احمد کو بغداد پہنچنے پر یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اُن کا واپس آنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ دمشق میں جرمانی کے علاقے میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں عراقی پناہ گزیں آباد ہیں ایک کمرے کے چھوٹے سے فلیٹ میں احمد نے نےبتایا کہ اُس نے سوچا تھا کہ جیسا کہ خبروں میں کہا جا رہا تھا عراق میں حالات بہتر ہو گئے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا تھا مجھے کام مل جائے گا اور میں وہاں رہ سکوں گا لیکن ایسا نہیں تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی وہ بغداد میں اپنے محلے میں پہنچے انہیں معلوم ہوا کہ انہیں اسی شیعہ ملیشیا کے پاس اپنا نام درج کرانا پڑے گا جس کے ڈر سے وہ بغداد چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خوارک کی اشیاء دستیاب نہیں تھیں اور علاقے میں بجلی کی سپلائی بھی بند تھی۔ انہوں نے کہا صرف چار دن گزارنے کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنا سامان باندھا اور خاندان سمیت واپس دمشق آ گئے۔ احمد کے بارہ سالہ بچے نے وہاں رہنے کی بہت ضد کی لیکن وہ بغداد چھوڑنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔
احمد نے کہا کہ یہ ان کے لیے کوئی بہت مشکل فیصلہ نہیں تھا کیوں کہ زندگی سب سے زیادہ اہم ہے۔ دمشق میں احمد کو کوئی روز گار نہیں مل سکا اور وہ اور ان کا خاندان اسی بچت پر گزار کر رہے ہیں جو وہ بغداد سے اپنی گاڑی اور گھریلوں سامان بیچ کر ساتھ لائے تھے۔ یہ ساری بچت زیادہ سے زیادہ دو مہنیوں تک چلے گی اور اس کے بعد احمد کو پھر کوئی مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ’میں کیا کروں گا کدھر جاؤں گا؟ میں واپس نہیں جا سکتا، شائد میں ملک کے کسی دوسرے حصے میں اپنی قسمت آزماؤں۔‘ عراق میں سن دو ہزار پانچ اور دو ہزار چھ میں فرقہ وارانہ تشدد کے عروج پر ہر ماہ تیس ہزار کے قریب عراقی پناہ گزیں شام میں داخل ہو رہے تھے۔ شام کی طرف سے عراق سے آنے والوں کے لیے ویزا کی پابندی لگائے جانے کے بعد عراق سے ہجرت کرکے آنےوالوں کی تعداد کم ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود شام میں اس وقت پندرہ لاکھ کے قریب عراقی مہاجرین آباد ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب عراقی مہاجرین اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین سے مستقل طور پر خوارک وصول کرنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق امداد وصول کرنے والوں کی تعداد اس سال کے آخر تک دگنی ہو جائے گی کیونکہ ذرائع آمدن نہ ہونے کے باعث لوگوں کے وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ایک حالیہ سروے کے مطابق جس میں شام میں موجود ایک ہزار عراقی مہاجرین سے سوال پوچھے گئے چھیانے فیصد نے کہا کہ وہ ابھی عراق واپس جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ تیس فیصد سے بھی کم لوگوں نے کہا کہ وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو واپس جانے کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ یو این ایچ سی آر کی تعلقات عامہ کی افسر شیبلا ولکس نے کہا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے واپس جانے کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عراق کے مختلف علاقوں میں اصل حالات کا اندازہ نہیں ہے اس لیے وہ مہاجرین کو واپس جانے کا مشورہ نہیں دی سکتی۔ انہوں نے کہا وہ لوگوں کو بغیر تصدیق کیئے یہ نہیں کہ سکتے کہ واپس جانے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم اس بات کے شواہد موجود ہیں کے شام میں مقیم عراقیوں کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر کبھی کسی عزیز رشتہ دار کی وفات پر، کبھی اپنی پینشن لینے یا پھر حالات کا اندازہ لگانے سرحد کے آر پار آتی جاتی رہتی ہے۔ بعث پارٹی کے ایک سابق کارکن ابوفراس حالیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حال ہی میں کچھ خاندانی وجوہات کی بنا پر سرحد پار عراق گئے تھے لیکن ان کا مستقل طور پر عراق لوٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈر سے کہ کہیں ان کو لوگ پہچان نہ لیں وہ صرف چار دن ہی عراق میں ٹھہرے اور واپس لوٹ آئے۔ شام میں مقیم بعث پارٹی کے ایک اور رکن ابو عبداللہ نے کہا کہ وہ فرقہ وارنہ تشدد کے خطرے کی وجہ سے اپنے خاندان کو واپس لے جانا نہیں چاہتے۔ بعث پارٹی کے ارکان کے بارے میں گزشتہ سال عراقی پارلیمان سے منظور کیئے جانے والے ایک قانون کو انہوں نے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ اس قانون کے تحت باعث پارٹی کے سابق کارکنوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور سہولیات دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق حکام اس بہانے باعث پارٹی کے کارکنوں اور اہلکاروں کو واپس بلوا کر ختم کرنا چاہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||