عراق میں امریکی طاقت عیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد سے میں نے اس تنازعے پر رپوٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا تقریباً ایک برس یہاں گزارا ہے۔ میں نے بہتوں کو مرتے اور زخمی ہوتے دیکھا اور میرے اپنے کئي دوستوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ جانے کتنے جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بہت سے دوسرے ممالک میں پناہ کے متمنی ہیں۔ اب اس جنگ کی مدت بھی تقریباً دوسری عالمی جنگ کے برابر ہو چکی ہے اور خرچہ بھی تقریباً اتنا ہی ہو چکا ہے۔ اس کے اصلی مقاصد میں سے صرف ایک مقصد، صدم حسین کی معزولی، میں ہی کامیابی ملی ہے۔ دوسرے مقاصد، ایک تو نا قابل حصول تھا کیونکہ عراق میں عام تباہی کے ہتھیار تھے ہی نہیں تو انہیں تباہ کیسے کیا جاتا، اور ایک مقصد کہ مشرق وسطی میں جمہوریت کے فروغ دیا جائےگا تو اسے اب غیر معینہ مدت کے ملتوی کردیا گیا ہے۔ درحقیقت اس میں نیا کچھ بھی نہیں ہے۔ جنگ کے مخالفین نےاس بات کو بار بار دہرایا ہے جبکہ جنگ کے حامی ان باتوں کے ذکر سے ہی گریز کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ نے امریکہ کی طاقت کی حد بتا دی ہے۔ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ ایک وقت میں صرف دو چھوٹی جنگوں کا ہی متمحل ہوسکتا ہے۔ عراق اور افغانستان نے امریکی فوج کے بازووں کو اس قدر کھینچ رکھا ہے کہ اب مزید پھیلنے سے وہ ٹوٹ سکتے ہیں۔ عراق پر حملے کے بعد امریکہ اب وہ عظیم طاقت نہیں رہا جو وہ پہلے تھا۔ لیکن برے حالات سے ابھرنےاور نئے انداز سےطاقت کو استمعال کرنے میں امریکہ کی کچھ صلاحتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ وہ طریقے جن سے شکست ہورہی تھی ترک کردی گئی ہیں اور ان کی جگہ نئی قدرے دانشورانہ حکمت عملی اختیار کی جارہی ہیں۔ امریکی فوج اب دفاعی طریقے سے جنگ لڑ رہی ہے جس سے اس فیصلے کے لیے کافی وقت ملے گا کہ عراق سے فوج کو واپس بلا لیا جائے یا پھر موجود گی کی کیا شکل ہوگی۔ بعض افراد جیسے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین بلا شبہ اس دفاعی جنگ کو کامیابی کہیں گے، بلکہ وہ اسے فتح بھی کہہ سکتے ہیں لیکن فی الوقت اسے کامیابی سوچنا بھی مشکل ہے۔ پیر کے روز نائب امریکی صدر ڈک چینی بغداد آئے تھے اور انہوں نے’ سیکیورٹی میں زبردست بہتری ‘ کی بات کہی۔ اسی روز ساٹھ سے زیادہ عراقی بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ڈک چینی سخت سکیورٹی والے علاقے گرین زون کے باہر نہیں آتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی نقل و حرکت کے لیے بہت سے سکیورٹی گارڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ وہاں موجود تھے تبھی دو مارٹر گرین زون کے علاقے میں گرے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سکیورٹی کی حالت میں کوئی خاص تبدیدلی نہیں آئی ہے۔
دو ہزار سات میں جنرل ڈیوڈ پیٹرسو نے نئی تبدیلیاں شروع کی اور نئی حکمت عملی اپنانے سے جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں بہت سے گروہوں کو تقسیم کیا گیا ہے۔ مہدی آرمی کو خاموش رہنے پر راضی کر لیا گیا ہے اور عراقی اور امریکی فوج نے آگے بڑھ کر کارروائیاں شروع کی ہیں تاکہ دشمنوں کو ابھرنے کا موقع نہ ملے۔ اس سے قبل امریکی فوج کی حکمت عملی منفی تھی اور سیاسی گروہوں کے ساتھ مفاہمت پر بھی مبنی نہیں تھی۔ اب عراق میں امریکی پالیسی کے روح رواں رائن کروک ہیں جو عراق میں امریکہ کے سفیر بھی ہیں۔ وہ اچھی عربی بولتے ہیں۔ عراقی عوام کے تئیں ان کا رویہ ہمدردانہ ہے اور وہ مسائل کو سمجتے بھی ہیں۔ میرے امریکی دوست جو کبھی امریکیوں سے نفرت کرتے تھے اب ان کی اس بات کے لیے تعریف کرتے ہیں کہ وہ عسکریت پسندوں کوگلیوں سے دور بھگا رہے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ امریکہ کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے بہت کم ہے۔ اب امریکی وزارت خارجہ کو اس بات سے بہت پریشانی ہوتی ہے کہ جب ایزارسانی کے لیے وہ دوسرے ممالک پر تنقید کرتا ہے تو کوئی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ خود اس ریکارڈ خراب ہے۔ پوری دنیا کے لوگ ابو غریب جیل، حدیثہ اور فلوجہ میں جو بھی کچھ ہوا ہے اسے دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے اور وہ اب بھی سب کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ سب سے اہم بات جو ہم سب نے دیکھی ہے وہ یہ کہ امریکہ چند ہزار معمولی ہتھیاروں سے لیس افراد کو قابو کرنے میں کس قدر بے بس رہا ہے۔ جرمنی کے انیسویں چانسلر اوٹو ون بسمارک نے کہا تھا کہ عظیم طاقتوں کو اپنی فوجی قوت آزماتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آزماتے وقت یا تو زبردست فتح حاصل کریں ورنہ پھر شکست ہی ہاتھ آتی ہے۔ عراق میں کچھ کامیابیاں ہاتھ ضرور لگی ہیں لیکن ابھی امریکہ کو طویل المدت خطرات کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: شہری ہلاکتوں میں اضافہ01 March, 2008 | آس پاس عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس متعدد جنگجو ہلاک: امریکہ12 March, 2008 | آس پاس عراق میں انسانی بحران بد سے بدتر17 March, 2008 | آس پاس جان مکین عراق کے آٹھویں دورے پر17 March, 2008 | آس پاس کربلا: خاتون بمبار حملہ، 52 ہلاک18 March, 2008 | آس پاس عراقی پناہ گزینوں میں اضافہ18 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||