متعدد جنگجو ہلاک: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی عراق کے شہر کٹ میں مھدی ملیشیا کے متعدد جنگجوؤں سے ایک جھڑپ میں ہلاک کر دیا ہے۔ مقامی ہسپتال کے ذرائع کے مطابق کم از کم سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ یہ ہلاکتیں منگل کو امریکی فوج اور مھدی ملیشیا کے درمیان ہونے والے تصادم میں ہوئیں۔ عراق میں تشدد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک دن قبل عراق میں چوالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق کٹ میں تین مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جو کہ شیعہ رہنماء مقتدیٰ الصدر کی حامی مھدی ملیشیا کا گڑھ ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے عراقی فوج کو اس وقت بری اور فضائی امداد فراہم کی جس وقت ان پر بڑی تعداد میں دشمن ملیشیا نے حملہ کیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی حملے میں بارود سے بھری ایک وین بھی تباہ ہوئی۔ منگل کے روز نصریہ میں شیعہ افراد سے بھری ایک بس سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرائی۔ یہ بس ان افراد کو نجف سے بصرہ لے کر جا رہی تھی۔ عراقی حکام کے مطابق اس حملے میں سولہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ امریکی فوج کے ترجمان میجر بریڈ لیٹن نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ’بس کو معمولی نقصان پہنچا تھا اور ہماری موجودگی میں وہ بس تھوڑی دیر بعد چلی گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ اس حملے کا ہدف امریکی قیادت میں کثیرالملکی فوج کا کارواں تھا۔ اس حملے میں ایک غیرملکی فوجی اور ایک عراقی فوجی زخمی ہوا۔ ذرائع ابلاغ کی تصویروں کے مطابق اس واقعہ کے وقت امریکی فوج موجود تھی تاہم بس کو کھینچ کر لے جایا جا رہا تھا۔ اس بس پر بم کے ٹکڑوں کے نشانات اور خون آلود کپڑے نظر آ رہے تھے مگر کوئی لاش نہیں تھی۔ مقامی ہسپتال کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو نصریہ اور بصرہ ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ دوسری طرف منگل کے روز مسلح افراد نے موصل میں پولیس چوکی پر حملہ کرکے چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ ایک اور واقعہ میں خودکش حملہ آور نے ایک چوکی پر بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا کر پانچ افراد کو ہلاک کر دیا۔ سوموار سے نو امریکی فوجی اور ایک مترجم عراق میں مختلف تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز ہونے والے تشدد کے واقعات دو ہزرا چھ اور دو ہزار سات کے بدترین دنوں کی یاد دلاتے ہیں۔ تاہم امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اکا دکا واقعات ہیں۔ اگست دو ہزار سات اور جنوری دو ہزار آٹھ کے درمیان روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ہو گئی ہے جس میں اوسطاً بیس عراقی روزانہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوتے تھے۔ دوسری طرف میڈیا کے مطابق فروری کے مہینے میں اوسطاً چھبیس عراقی ہلاک ہوئے جبکہ مارچ کے مہینے میں اب تک کی اوسط انتالیس ہے۔ | اسی بارے میں بغداد: دھماکے، 54 افراد ہلاک07 March, 2008 | آس پاس عراق: شہری ہلاکتوں میں اضافہ01 March, 2008 | آس پاس کیمیکل علی کی پھانسی کی منظوری29 February, 2008 | آس پاس کردستان پر حملہ، عراق کے خدشات24 February, 2008 | آس پاس عراق خودکش حملہ، سات ہلاک20 February, 2008 | آس پاس بغداد: دو دھماکوں میں ستر ہلاک 01 February, 2008 | آس پاس عراق: پانچ امریکی فوجی ہلاک28 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||