BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 February, 2008, 00:27 GMT 05:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کردستان پر حملہ، عراق کے خدشات
کردستان
علاقے میں کئی پلوں کو نشانہ بنایا گیا
عراق کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔

ہوشیار زیباری نے کہا ہے کہ عراق کے غیر آباد اور دور افتاد علاقوں میں کارروائی جلد از جلد بند ہونی چاہیے۔

کرد باغیوں کے علاقائی رہنما نے کہا ہے کہ اگر شہریوں پر حملے کیئے گئے تو اس کی زبردست مزاحمت ہو گی۔

عراقی علاقوں پر ترک فوج کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں دونوں اطراف سے متضاد دعوئے کئے گئے ہیں۔

امریکہ کی حکومت اور اقوام متحدہ نے ترکی سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق ترکی کی طرف سے ان حملوں کا مقصد کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے کے باغیوں کو ترکی کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے شمالی عراق کے ٹھکانے استعمال کرنے سے باز رکھنا ہے۔

انیس سو چوراسی سے کردستان کی آزادی کے لیے جاری جدوجہد میں اب تک تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

کرد باغیوں نے زبردست مزاحمت کی دھمکی دی ہے

امریکہ کی حکومت، یورپی برادری اور ترکی کردستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے پی کے کے کے باغیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی زمینی افواج نے جمعرات کو رات گئے عراق کی سرحد عبور کر کے کرد باغیوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائیہ اور توپ خانے کے ذریعے بمباری کی گئی۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ دو دنوں کی لڑائی میں اناسی کرد باغی اور سات ترک فوجی ہلاک ہوئے۔ کرد باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بائیس ترک فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ ان کی پانچ کارکن زخمی ہوئے۔

ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کردوں کے خلاف کارروائی کرنے والی فوج میں شامل فوجیوں کی تعداد تین ہزار سے دس ہزار کے درمیان تھی۔

ہوشیا زیباری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شمالی عراق کے دورافتاد علاقے میں ایک محدود فوجی کارروائی تھی۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک غلطی سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

زیباری نے کہا کہ ترک حکومت کی طرف سے یقین دہانیوں کے باوجود کے شہری سہولیات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اس علاقے میں متعدد پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

کردوں کی حالت زار
صلاح الدین ایوبی کی قوم چومکھی جبر کا شکار
ترکی استنبولیورپی یونین اور ترکی
یورپ میں ترکی کے حامی اور مخالف کون کون؟
عراقکون کہاں آباد ہے؟
عراقی آبادی کی مذہبی اور نسلی تقسیم کا نقشہ
عراقعراق کےحساس علاقے
عراق کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی نقشہ
مزاحمت کےدو سال
عراقی جنگ سے کس کو فائدہ ہوا کس کو نقصان
اسی بارے میں
ترک فوج عراق میں گھس گئی
18 December, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد