بغداد: دھماکے، 54 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں وسطی بغداد میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 54 لوگ ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے شہر کے وسط میں ایک بازار میں ہوئے جہاں لوگ جمعرات کی شام کو کاروبار کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پہلا دھماکہ سڑک کے کنارے ہوا اور جب لوگ زخمیوں کی مدد کو پہنچے تو دوسرا دھماکہ ہوا جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔
ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ حسن عبداللہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ اپنی کپڑوں کی دکلان کے پاس کھڑے تھے کہ جب ان سے ایک سوپچاس میٹر کے فاصلے پر پہلا دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دھماکے کی جگہ کی طرف بڑھ رہے تھے کہ دوسرا دھماکہ ہوا اور ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ ان کے قریب آ کر گری‘۔ عراق کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں کی تعداد جنوری کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کا رجحان اب ختم ہو رہا ہے۔ ہلاکتوں میں کمی کی وجوہات عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، القاعدہ مخالف سنی ملیشیاؤں کا قیام اور مہدی آرمی کی کارروائیوں کی بندش بتائی جاتی تھیں۔ | اسی بارے میں عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس بغداد کار دھماکے میں پندرہ ہلاک03 March, 2008 | آس پاس ایرانی صدر عراق کےتاریخی دورے پر02 March, 2008 | آس پاس عراق: فضائی راستے بھی غیر محفوظ؟08 February, 2007 | آس پاس ’القاعدہ ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم‘11 September, 2007 | آس پاس عراق میں پیش رفت سست: رپورٹ31 August, 2007 | آس پاس ’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘09 January, 2008 | آس پاس عراقی حکومت کے ’ڈیتھ سکواڈ‘16 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||