بغداد: دو دھماکوں میں ستر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے دو مختلف بازاروں میں بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم سے کم ستر افراد مارے گئے ہیں۔ گزشتہ برس امریکی فوجیوں کی طرف سے بغداد میں سکیورٹی بہتر بنانے کے اقدامات کے بعد سے کسی ایک دن میں بغداد میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی یہ سب بڑی تعداد ہے۔ جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب مویشیوں کی ایک مشہور منڈی میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں کہا جا رہا کہ یہ خاتون خود کش حملہ آور کی کارروائی تھی۔ دوسرا دھماکہ اس کے محض بیس منٹ بعد شہر کے مشرقی علاقے کے ایک مصروف بازار میں ہوا۔ اس سے قبل گزشتہ برس یکم اگست کو تین کار بم دھماکوں میں اسّی سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ غضیل کے علاقے میں مویشیوں کی منڈی میں کیے جانے والے خود کش حملے میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک اور اسّی زخمی ہوئے۔ یہ ہفتہ وار مویشی منڈی جمعے کو لگتی ہے اور گزشتہ سال میں دو دھماکے ہونے کے باوجود یہاں لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اہلکاروں اور امدادی عملے نے زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ریڑھیوں، کاروں اور پِک اپ ٹرکوں میں ڈال کر بغداد کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا۔ دوسرا دھماکہ بغداد کے علاقے جدیدہ میں ہوا جس میں دس افراد ہلاک اور کم سے کم تیس زخمی ہوئے۔ ایک ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ان کے ہاں کم سے کم تیس لاشیں پہنچائی گئی ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا ’ یہاں تباہی پھیلی ہوئی ہے، لاشیں گِنی نہیں جا رہیں۔‘ | اسی بارے میں عراق، القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری 11 January, 2008 | آس پاس عراق: دھماکے میں چھ امریکی ہلاک09 January, 2008 | آس پاس ’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘09 January, 2008 | آس پاس حملوں میں آٹھ عراقی ہلاک07 January, 2008 | آس پاس بیس لاکھ عراقی بچے مسائل کا شکار21 December, 2007 | آس پاس خاتون بمبار کا حملہ، 16 ہلاک07 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||