BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: شہری ہلاکتوں میں اضافہ
عراق (فائل فوٹو)
حالیہ شہری ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ دو حملوں کو قرار دیا جا رہا ہے
عراق میں سرکاری اعداد و شمار میں کہاگیا ہے کہ کئی ماہ کے دوران پہلی بار فروری میں تشدد کے باعث شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

متعدد عراقی وزارتوں کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 633 شہری ہلاک ہوئے تاہم یہ تعداد اس سال جنوری میں ہونے والی 460 ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ بغداد اور کربلا کے قریب ہونے والے دو حملے ہیں جس میں کم از کم ایک سو پچاس افراد ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہلاکتوں میں اچانک اضافے نے چھ ماہ کے دوران ہونے والی کم ہلاکتوں کے رحجان بدل دیا ہے تاہم اس سال فروری میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب بھی گزشتہ سال فروری میں سولہ سو پینتالیس شہریوں کی ہلاکتوں کے مقابلے میں کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فروری دو ہزار چھ میں عراق کے علاقے سمارا میں شیعوں کے مقدس مقام پر ہونے والی بمباری نے تشدد کی لہر کو جنم دیا تھا جس کے بعد ہونے والے تشدد کے واقعات کے دوران جنوری دو ہزار سات میں 1992 شہری ہلاک ہوئے۔

شہری ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کا سہرا عراق میں امریکی فوجی دستوں کی تعداد میں بڑھوتی، شعیہ ملیشیا مہدی آرمی کے سیز فائر اور آس پاس واقع سنی عرب علاقوں میں سکیورٹی یونٹ میں اضافے کو دیا جا رہا ہے۔

یکم فروری کو بغداد میں ہونے والے دو حملے دارالحکومت میں کئی ماہ کے دوران ہونے والے حملوں میں سب سے مہلک ثابت ہوئے۔ ابتداء میں ان حملوں کی ذمہ داری ذہنی طور پر معذور دو خواتین پر ڈالی گئی تھی۔ بعدازاں امریکی فوجی حکام نے بتایا کہ حملے کرنے والی خواتین کا قبل ازیں نفسیاتی علاج کیا گیا تھا۔

عراق میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے گداگروں اور ذہنی طور ہر معذور افراد کو تنظیم میں بھرتی کیے جانے کے خدشات کے بعد عراقی سکیورٹی فورسز کو بغداد کی گلیوں میں پھرنے والے گداگروں اور ذہنی طور ہر معذور افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

تیسرا خودکش حملہ چوبیس فروری کو بغداد کے جنوب میں سکندریہ میں
اس وقت ہوا جب شیعہ زائرین مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے کربلا جارہے تھے۔ اس حملے میں پچاس شیعہ زائرین ہلاک ہوئے۔

عراقڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں
امریکی حملے کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاکتیں
صدر بشصبر سے کام لیں
’فوج ہٹائی تو عراق ویتنام بن جائےگا‘
عراق کا خونی دریا
دجلہ کے کنارے رہنے والوں کا ایک نیا المیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد