BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 March, 2008, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کربلا: خاتون بمبار حملہ، 52 ہلاک
 عراق
جائے وقوعہ پر خون ہی حون دکھائی دیتا تھا اور نشانہ بننے والوں کی اشیء بکھری پڑی تھیں
عراقی محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مقدس شہر کربلا میں ایک خاتون خود کش بمبار کے حملے میں کم از کم باون افراد کو ہلاک اور اٹھاون کو زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ امام حسین کے روضے کے قریب ایک کیفے میں ہوا اور دھماکے کے نتیجے میں لاشیں سڑک پردور دور تک بکھر گئیں۔

حکام کے مطابق یہ دھماکہ ایک خاتون نے کیا ہے جو دھماکہ خیز مواد والی جیکٹ پہنے ہوئی تھی۔ اس خاتون نے امام حسین کے روضے کے قریب ہی اپنے آپ کو اڑا لیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سات ایرانی بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے بھی اس مقدس شہر کو ہولناک بموں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور گزشتہ اپریل میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے دوران سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کربلہ میں ہونے والے دھماکے
News image
۔ سترہ مارچ، دو ہزار آٹھ: ایک خاتون خود کش بمبار کا حملہ، 42 ہلاک، 58 زخمی
۔ اٹھائس اپریل، دو ہزار سات: کار بم حملہ، 55 ہلاک، 70 زخمی
۔ چودہ اپریل، دو ہزار سات: خود کش حملہ، 42 ہلاک، 150 زخمی
۔ پانچ جنوری، دو ہزار چھ: خود کش حملے میں 60 ہلاک، 100 زخمی
۔ دو مارچ، دو ہزار چار: بم دھماکے میں 85 ہلاک، 230 زخمی

حکام اس دھماکے کی ذمہ داری کا شک القاعدہ کے سرکشوں پر کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس دوران عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک فٹبال گراؤنڈ میں نامعلوم سرکشوں کے ایک دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ بغداد میں اور نواح کے دیگر واقعات میں دو عراقی شہری اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ پانچ برس میں عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اب چار ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

یہ دھماکے اور ہلاکتیں اس وقت ہوئی ہیں جب امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی عراق کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔

ڈک چینی کے مطابق حالیہ مہینوں میں عراق میں سلامتی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کا یہ بیان دراصل گزشتہ برس امریکی فوجیوں کی تعداد میں بڑے اضافے کے مثبت اثرات کی جانب توجہ دلانے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں
عراق خودکش حملہ، سات ہلاک
20 February, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد