فوجیوں کی واپسی، وقفہ کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس سال موسم گرما میں عراق سے تیس ہزار فوجیوں کی واپسی کے بعد اس انخلاء میں وقفہ ہونا چاہیئے۔ واضح رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا منصوبہ ہے کہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد بیس بریگیڈز سے کم کر کے پندرہ کر دی جائے۔ ان میں سے ایک بریگیڈ پہلے ہی امریکہ واپس جا چکی ہے جبکہ مزید پانچ اس سال جولائی میں واپس جائیں گی۔ عراق میں امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئس سے ملاقات کے بعد وزیر دفاع نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فوجوں کی واپسی کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک تجزیاتی دور ہونا چاہیے۔ امریکہ نے گزشتہ سال عراق میں سکیورٹی بہتر بنانے کی غرض سے تیس ہزار مزید فوجی بھیجے تھے۔ رابرٹ گیٹس نے تسلیم کیا کہ اگرچہ عراق میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی ہوئی ہے لیکن صورتحال ابھی بھی نازک ہے۔
پیر کو امریکی وزیر دفاع کے بیان کے ساتھ ساتھ بغداد میں دو بم دھماکے بھی ہوئے ہیں۔ بغداد کے علاقے جدریہ میں ہونے والے ان دھماکوں میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ یہ بات منتقی ہے کہ ہم عراق سے فوجیں واپس بلانے کے منصوبے میں ایک مختصر دورانیے کا تجزیاتی وقفہ کریں، ’ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس وقفے کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیے اور یہ کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔‘ وزیر دفاع نے بہرحال یہ واضح کیا عراق میں فوجوں کی تعداد کے بارے میں حتمی فیصلہ صدر بش ہی کریں گے۔ رابرٹ گیٹس اتوار کو اچانک عراق کے دو روزہ دورے پر پہنچے تھے اور ان کے دورے کا مقصد گزشتہ برس امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ |
اسی بارے میں اسلامی شدت پسند حقیقی خطرہ:گیٹس10 February, 2008 | آس پاس نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے: امریکہ07 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو میں کوئی بحران نہیں‘08 February, 2008 | آس پاس امریکی مؤقف پر نیٹو اتحادی حیران02 February, 2008 | آس پاس چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک10 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||