اسلامی شدت پسندی، حقیقی خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا کو اسلامی شدت پسندی سے حقیقی خطرات لاحق ہیں اور یہ خطرات کم ہونے والے نہیں۔ جرمنی میں سکیورٹی اور فوج کی ایک سالانہ تقریب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں نیٹو کی شکست ہوتی ہے تو دہشت گردی اور تشدد پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے ۔ رابرٹ گیٹس نے اسلامی شدت پسندی کو ایک ایسی تحریک قرار دیا جو کامیابی کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’شدت پسندوں کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطٰی میں تشدد کی کارروائیوں میں ہزاروں بےگناہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ’ کیا ہواگر شدت پسندوں کی جھوٹی کامیابی حقیقی ہوجائے، اگر وہ عراق اور افغانستان میں اقتدار میں آجاتے ہیں یا پھر اگر پاکستان اور مشرقِ وسطٰی کے اہم ممالک میں حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟‘ انہوں نے یورپی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے شہریوں کو بتائیں کہ افغانستان میں نیٹو کا مشن شدت پسندی کے خلاف جنگ کا ایک حصہ ہے۔ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ افغانستان میں جاری جنگ کو یورپین شہریوں کی کم حمایت حاصل ہے، امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات کی فکر ہے کہ بعض لوگوں کواس بات کا علم نہیں ہے کہ دہشت گردی یورپ کے حفاظتی نظام کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘ اپنے خطاب میں رابرٹ گیٹس نے ان ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو اپنی افواج کا استعمال صرف اپنی داخلی ضروریات کے لیے کرتے ہیں اور افغانستان میں جنگ کے لیے بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ایسا نہیں کر سکتا کہ کچھ اتحادی اپنے فوجیوں کو افغانستان کی جنگ میں مرنے دیں اور کچھ اتحادی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد دو صفوں والا اتحاد نہیں بن سکتا جس میں ایک طرف کے اتحادی لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑنے اور جان دینے پر رضا مند ہوں اور دوسری طرف کے اتحادی ایسا نہ کریں۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں جرمنی نے کہا تھا کہ وہ شمالی افغانستان میں دو سو فوجی بھیجے گا۔جرمنی کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جرمن فوجی اگلے چند ماہ میں مزارِ شریف میں بھیجے جائیں گے لیکن کسی ہنگامی حالت میں انہیں کہیں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے جنوب میں نیٹو کے تحت لڑائی میں زیادہ تر امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیدرلینڈ کے فوجی شامل ہیں۔ ان کا یہ خطاب اس مہم کی ایک کوشش جس کے تحت وہ کبھی نجی طور اور کبھی سیاسی سطح پر نیٹو اتحادیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سبھی اتحادی افغانستان میں جاری جنگ میں برابر کی افواج بھیجیں۔ |
اسی بارے میں نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے: امریکہ07 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو میں کوئی بحران نہیں‘08 February, 2008 | آس پاس امریکی مؤقف پر نیٹو اتحادی حیران02 February, 2008 | آس پاس چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک10 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||