’نوعمر لڑکوں کی مسلح تربیت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور عراقی افواج نے ایک وڈیو جاری کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں نظر آتا ہے کہ القاعدہ گیارہ سال سے بھی کم عمر کے بچوں کو مسلح کر رہی ہے اور انہیں تربیت دے رہی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج کو دسمبر میں بغداد کے شمال میں القاعدہ کی ایک پناہ گاہ پر حملے کے دوران اس طرح کی پانچ وڈیو ٹیپس ملیں۔ ان وڈیو ٹیپس میں نظر آتا ہے کہ تربیت کے دوران لڑکے بندوقیں اور بم لہرا رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کے خیال میں امریکیوں کو امید ہے کہ ان مناظر کو دیکھ کر عراقی اسلامی شدت پسندوں سے منہ موڑ لیں گے۔ ان وڈیوز کے مطابق نوجوان پستولوں، مشین گنوں اور دیگر اسلحے کے ساتھ ادھر ادھر دوڑے پھرتے ہیں۔ ایک منظر میں لڑکے اغوا کا ایک سین کرتے ہیں جہاں وہ رضا کاروں کے سر پر بندوق رکھ کر ان کو گرد بھری زمین پر جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بی بی سی کے جم میور نے بغداد سے لکھا ہے کہ وڈیو کے مطابق کالے رنگ کے ماسک لگائے ہوئے یہ بچے بعد میں مغویوں کے ذبح ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ امریکی فوج کو یقین ہے کہ یہ فوٹیج پروپیگنڈا کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ القاعدہ میں نئے نوجوانوں کو بھرتی کیا جا سکے۔ امریکی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل گریگوری سمتھ کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ مذکورہ وڈیو میں حقیقت میں کسی کو اغوا کیا گیا تھا بلکہ یہ صرف یہ ایک منظر تھا۔ |
اسی بارے میں القاعدہ کا سرکردہ رکن گرفتار29 July, 2004 | پاکستان خالد شیخ محمد کون ہیں؟02.03.2003 | صفحۂ اول گیارہ ستمبر: خالد شیخ نے کیا بتایا؟22 September, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||