عراقی پناہ گزینوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ پانچ سال میں ترقی یافتہ ممالک میں پناہ گزینوں کی درخواستوں کی تعداد میں کمی ہوئی تھی لیکن عراقی پناہ گزینوں کی وجہ سے اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں صنعتی ممالک میں پناہ کے لیے عراقی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں تقریباً تئیس ہزار عراقیوں نے پناہ کے لیے درخواستیں دی تھیں جبکہ دو ہزار سات میں ان درخواستوں کی تعداد پینتالیس ہزار سے زیادہ تھی، یعنی دگنی سے بھی زیادہ۔ پناہ کے لیے درخواستیں دینے والے عراقی جنگ سے متاثر ہونے والے پینتالیس لاکھ افراد کا صرف ایک فیصد ہیں۔ ان پینتالیس لاکھ افراد میں سے پچیس لاکھ افراد نے عراق ہی میں نقل مکانی کی جبکہ بیس لاکھ افراد نے شام اور اُردن ہجرت کی ہے۔ سنہ دو ہزار سات میں تمام پناہ گزینوں میں سے سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ جانے کے لیے تھیں۔ ان درخواستوں کی تعداد انچاس ہزار دو سو تھی جو کہ تمام درخواستوں کا پندرہ فیصد بنتا ہے۔ تاہم امریکہ نے ہر ہزار امریکنوں کے نسبت ایک پناہ گزین قبول کیا جبکہ یورپ میں یہ شرح ہر ہزار کے لیے دو اعشاریہ چھ تھی۔ پناہ گزینوں کی دوسری ترجیح سویڈن تھی جہاں پر پچھلے ایک سال میں پناہ کی درخواستوں میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تیسرے نمبر پر پناہ کی انتیس ہزار درخواستوں کی وصولی کے ساتھ فرانس ہے جبکہ اٹھائیس ہزار کے ساتھ کینیڈا اور ستائیس ہزار سے زیادہ کے ساتھ برطانیہ پانچویں نمبر پر ہے۔ ان ممالک کے علاوہ گریس، جرمنی، اٹلی، آسٹریا اور بیلجئیم بھی شامل ہیں۔ یو ان ایچ سی آر کے مطابق یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے لیے مزید پروگراموں کی ضرورت ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شام اور اردن سے عراقی پناہ گزینوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یورپی ممالک کی کوششیں اہم ہیں اور یہ علاقائی ہم آہنگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ عراقیوں کے علاوہ سنہ دو ہزار سات میں پناہ کے لیے درخوست دینے والوں میں انیس ہزار روسی، سترہ ہزار چینی، ساڑھے پندرہ ہزار سربیائی اور چودہ ہزار سے زائد پاکستانی شامل تھے۔ |
اسی بارے میں کربلا: خاتون بمبار حملہ، 42 ہلاک18 March, 2008 | آس پاس سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں14 March, 2008 | آس پاس عراق میں اجتماعی قبر دریافت09 March, 2008 | آس پاس عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس پناہ گزینوں کی واپسی کی’امید‘17 February, 2008 | آس پاس ’نوعمر لڑکوں کی مسلح تربیت‘07 February, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||