BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 March, 2008, 11:17 GMT 16:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی پناہ گزینوں میں اضافہ

پناہ گزین
پچھلے سال عراقی پناہ گزینوں کی تعداد پینتالیس ہزار تھی
گزشتہ پانچ سال میں ترقی یافتہ ممالک میں پناہ گزینوں کی درخواستوں کی تعداد میں کمی ہوئی تھی لیکن عراقی پناہ گزینوں کی وجہ سے اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں صنعتی ممالک میں پناہ کے لیے عراقی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں تقریباً تئیس ہزار عراقیوں نے پناہ کے لیے درخواستیں دی تھیں جبکہ دو ہزار سات میں ان درخواستوں کی تعداد پینتالیس ہزار سے زیادہ تھی، یعنی دگنی سے بھی زیادہ۔

پناہ کے لیے درخواستیں دینے والے عراقی جنگ سے متاثر ہونے والے پینتالیس لاکھ افراد کا صرف ایک فیصد ہیں۔

ان پینتالیس لاکھ افراد میں سے پچیس لاکھ افراد نے عراق ہی میں نقل مکانی کی جبکہ بیس لاکھ افراد نے شام اور اُردن ہجرت کی ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں تمام پناہ گزینوں میں سے سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ جانے کے لیے تھیں۔ ان درخواستوں کی تعداد انچاس ہزار دو سو تھی جو کہ تمام درخواستوں کا پندرہ فیصد بنتا ہے۔

تاہم امریکہ نے ہر ہزار امریکنوں کے نسبت ایک پناہ گزین قبول کیا جبکہ یورپ میں یہ شرح ہر ہزار کے لیے دو اعشاریہ چھ تھی۔

پناہ گزینوں کی دوسری ترجیح سویڈن تھی جہاں پر پچھلے ایک سال میں پناہ کی درخواستوں میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 سنہ دو ہزار سات میں تمام پناہ گزینوں میں سے سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ جانے کے لیے تھیں۔ ان درخواستوں کی تعداد انچاس ہزار دو سو تھیں جو کہ تمام درخواستوں کا پندرہ فیصد بنتا ہے

تیسرے نمبر پر پناہ کی انتیس ہزار درخواستوں کی وصولی کے ساتھ فرانس ہے جبکہ اٹھائیس ہزار کے ساتھ کینیڈا اور ستائیس ہزار سے زیادہ کے ساتھ برطانیہ پانچویں نمبر پر ہے۔

ان ممالک کے علاوہ گریس، جرمنی، اٹلی، آسٹریا اور بیلجئیم بھی شامل ہیں۔

یو ان ایچ سی آر کے مطابق یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے لیے مزید پروگراموں کی ضرورت ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شام اور اردن سے عراقی پناہ گزینوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یورپی ممالک کی کوششیں اہم ہیں اور یہ علاقائی ہم آہنگی کے لیے بہت ضروری ہے۔

عراقیوں کے علاوہ سنہ دو ہزار سات میں پناہ کے لیے درخوست دینے والوں میں انیس ہزار روسی، سترہ ہزار چینی، ساڑھے پندرہ ہزار سربیائی اور چودہ ہزار سے زائد پاکستانی شامل تھے۔

ایک زخمی عراقی بچیقبضے کے پانچ سال
عراق میں انسانی بحران بد سے بدتر
اجتماعی قبربغداد میں
سو لاشوں پر مشتمل اجتماعی قبر دریافت
ہلاکتوں میں اضافہ
عراق میں مرنے والوں کی تعداد میں پھر اضافہ
عراقڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں
امریکی حملے کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاکتیں
عراقی بچے(فائل فوٹو)بھوکے اور بیمار بچے
’عراقی جنگ کی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد