عراق میں اجتماعی قبر دریافت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سکیورٹی اہلکاروں کو تقریباً سوگلی سڑی لاشوں پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی ہے۔ بغداد کے شمالی علاقے خالیز میں یہ اجتماعی قبر گزشتہ کئی مہینوں میں دریافت ہونے والی سب سے بڑی قبر ہے۔ امریکی اور عراقی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس اجتماعی قتل کے ذمہ داران کا تعین نہیں ہو سکا ہے تاہم یہ قبر دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد کی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں زیادہ تر ڈھانچوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہت عرصے تک یہاں پڑی رہی ہیں۔ عراقی فوج کے اہلکار میجر جنرل عبدل کریم الربائی نے مزید بتایا کہ مرنے والوں کو شناخت کرنا ممکن نہیں ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ’ ہم ان لاشوں کی شناخت نہیں کر سکتے۔یہاں صرف ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں۔فی الحال ہم نے ان ہڈیوں کو قبر میں ہی رکھنا مناسب سمجھا ہے‘۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراق میں اس طرح کی کئی اجتماعی قبریں موجود ہیں جن میں سابقہ عراقی صدر صدام حسین کے دور میں قتل کیے گئے ہزاروں لوگوں کی لاشیں دفن کی گئی ہیں۔ امریکی حملے کے بعد فرقہ ورانہ فسادات میں بھی سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور حالیہ دنوں میں ایسی قبروں کا ملنا معمول کی بات ہے۔ امریکی اور عراقی حکام ان ہلاکتوں کے لیے القاعدہ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے تعاقب میں بھی عراقی شہر سمارا کے قریب تقریباً پچاس لاشوں پر مشتمل ایک اجتماعی قبر دریافت کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں عراق: انسانی بحران بد سے بدتر30 July, 2007 | آس پاس عراق کا خونی دریا17 July, 2007 | آس پاس خوف کی سیاست سے بٹتی ہوئی دنیا23 May, 2007 | آس پاس عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘19 March, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||