پناہ گزینوں کی واپسی کی’امید‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی عراق کے حالات میں اتنی بہتری آ جائے گی کہ چالیس لاکھ عراقی پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی شروع کی جا سکے گی۔ اس وقت بیس لاکھ کے قریب عراقی متعدد ممالک میں بطور پناہ گزین مقیم ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں عراق ہی کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور صرف دو ماہ قبل ہیں یو این ایچ سی آر نے کہا تھا کہ عراق بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تیار نہیں ہے‘۔ یو این ایچ سی آر کے کمشنر انٹونیوگیوٹرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ادارہ اور عراقی حکومت مل کر حالات کا جائزہ لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بغداد میں عراقی رہنماؤں سے بات چیت کے بعد انٹونیوگیوٹرز کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ بغداد میں اپنے بین الاقوامی عملے میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل شروع کرنے قبل نہ صرف یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ آیا وہ خیر خیریت سے اپنے گھر لوٹ سکتے ہیں بلکہ یہ کہ ان کے معاشرے میں مدغم ہونے کے کیا امکانات ہیں۔انٹونیوگیوٹرز کا کہنا تھا کہ یہی وہ کام ہے جو ہم عراقی حکومت کی مدد سے سرانجام دے رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطبق اگرچہ عراق کے کچھ حصوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے تاہم اب بھی اسے بالکل صحیح کہنا صحیح نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بیس لاکھ عراقی بچے مسائل کا شکار21 December, 2007 | آس پاس ’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘09 January, 2008 | آس پاس عراق کا قومی پرچم تبدیل23 January, 2008 | آس پاس بغداد: مرنے والوں کی تعداد ننانوے02 February, 2008 | آس پاس انجلینا جولی اچانک عراق میں08 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||