عراق کا قومی پرچم تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پارلیمان نے نئے قومی پرچم کی منظوری دیدی ہے۔ کردوں کی شکایت ختم کرنے کے لیے پرانے جھنڈے میں سے وہ تین ستارے نکال دیے گئے ہیں جو معزول صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کی نشانی تھے۔ کردوں نے صدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے بعد پرانا پرچم استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ بقول ان کے اس جھنڈے کا اس دور کی زیادتیوں سے گہرا تعلق ہے۔ قومی پرچم میں دو ہزار چار میں بھی تبدیلی کی گئی تھی جب اس پر درج ’اللہ اکبر‘ کا فانٹ بدلا گیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر اصل عبارت خود صدام حیسن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی تھی۔ لیکن یہ تبدیلی بھی عارضی ہے جس کی منظوری پچاس کے مقابلے میں ایک سو دس ووٹ سے دی گئی۔ بغداد سے نامہ نگار جانی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ جھنڈے کے ڈیزائن پر اتفاق سے لگتا ہے کہ پارلیمان میں مشکل مسائل پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ دس روز قبل پارلیمان نے ایک نئی تجویز کی منظوری دی تھی جس کے تحت بعث پارٹی کے سابق ارکان کی سرکاری ملازمتوں اور فوج میں بھرتی پر عائد پابندی ہٹا لی گئی تھی۔ لیکن اتحاد کی راہ میں اب بھی بڑے مسائل حائل ہیں۔ مثال کے طور پر منگل کو پارلیمان میں بجٹ منظور نہیں کیا جاسکا۔ نئے پرچم میں پرانے جھنڈے کے تینوں رنگ لال، سفید اور کالا شامل ہیں۔ لیکن بعث پارٹی کے نظریہ(اتحاد، آزادی اور سوشلزم) کی علامت ستارے ہٹا دیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق :عام معافی کے قانون پر غور27 December, 2007 | آس پاس ’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘09 January, 2008 | آس پاس ’عراق: بہتری کی امید لوٹ آئی ہے‘12 January, 2008 | آس پاس عراق: محرم کے لیے سکیورٹی سخت 19 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||