عراق: محرم کے لیے سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں یوم عاشورہ کے موقع پر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ سب سے بڑا اجتماع کربلا میں ہوگا جہاں تقریباً بیس لاکھ زائرین کے پہنچنے کی توقع ہے۔ جمعہ کو دو جنوبی شہروں میں پولیس اور شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک منحرف گروپ کے درمیان مڈبھیڑ میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سے حالات کافی کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی عاشورہ کے موقع پر اسی گروہ کے ساتھ جھڑپوں میں دو سو تریسٹھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جمعہ کو ناصریا اور بصرہ میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب اس گروہ نے بظاہر منظم انداز میں شیعہ زائرین اور سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ’سولجرز آف ہیون‘ نامی فرقے سے ہے۔ تشدد کے واقعات کے بعد حکام کو خطرہ ہے کہ اس نوعیت کے مزید حملے کیے جاسکتے ہیں۔ کربلا میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بیس ہزار عراقی فوجی اور پولس اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔ یوم عاشورہ کی تقریبات پر ماضی میں سنی شدت پسندوں کی جانب سے بھی حملے کیے گئے ہیں۔ جمعہ کی جھڑپیں شروع ہونے کے کئی گھنٹے بعد وزیر اعظم نوری المالکی نے اعلان کیا کہ دونوں شہروں پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول بحال ہوگیا ہے۔
پولیس کے مطابق ناصریا میں لڑائی تقریبا دوپہر بارہ بجے شروع ہوئی جب شہر میں پولیس کی ایک چوکی پر مارٹر گولے داغے گئے۔ اس کے بعد گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مشین گن اور راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا۔ ان جھڑپوں میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک اعلی افسر سمیت آٹھ پولیس اہلکار، ایک سولین خاتون اور تین شدت پسند شامل تھے۔ بصرہ پر حملے میں بھی درجنوں لوگ ہلاک ہوئے لیکن پولیس کے مطابق اس گروہ کے سربراہ ابو مصطفی انصاری کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جنوبی عراق میں شیعہ فرقے بالادستی کی جنگ میں برسر پیکار ہیں۔ جمعہ کو مقتدی الصدر نے بھی وفاقی حکومت کو متنبہ کیا تھا وہ اپنے علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال سے خوش نہیں ہیں اور اس وجہ سے حکومت کے ساتھ اپنی جنگ بندی ختم کرسکتے ہیں۔ مقتدی الصدر مہدی آرمی کے سربراہ ہیں اور حکومت کے ساتھ انہوں نے چھ ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی مدت آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے۔ امریکہ کے مطابق اس جنگ بندی کی وجہ سے عراق میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔ سولجرز آف ہیون گروپ اور امریکی قیادت والی افواج کے درمیان گزشتہ برس اس وقت لڑائی ہوئی تھی جب یہ گروہ مبینہ طور پر نجف پر حملہ کرنے اور اعلی ترین شیعہ مذہبی رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا منصبوبہ بنارہا تھا۔ لڑائی میں گروہ کے سربراہ ضیاء عبدلزہرہ بھی ہلاک ہوئے تھے جو خود کو امام مہدی مانتے تھے۔ |
اسی بارے میں عراق، القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری 11 January, 2008 | آس پاس ’عراق: بہتری کی امید لوٹ آئی ہے‘12 January, 2008 | آس پاس عراق: دھماکے میں چھ امریکی ہلاک09 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||