BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 January, 2008, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: محرم کے لیے سکیورٹی سخت
عراقی افواج نےب بصرہ اور ناصریا پر کنٹرول بحال کر لیا ہے
عراق میں یوم عاشورہ کے موقع پر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔

سب سے بڑا اجتماع کربلا میں ہوگا جہاں تقریباً بیس لاکھ زائرین کے پہنچنے کی توقع ہے۔

جمعہ کو دو جنوبی شہروں میں پولیس اور شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک منحرف گروپ کے درمیان مڈبھیڑ میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سے حالات کافی کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔

گزشتہ برس بھی عاشورہ کے موقع پر اسی گروہ کے ساتھ جھڑپوں میں دو سو تریسٹھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جمعہ کو ناصریا اور بصرہ میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب اس گروہ نے بظاہر منظم انداز میں شیعہ زائرین اور سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ’سولجرز آف ہیون‘ نامی فرقے سے ہے۔ تشدد کے واقعات کے بعد حکام کو خطرہ ہے کہ اس نوعیت کے مزید حملے کیے جاسکتے ہیں۔ کربلا میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بیس ہزار عراقی فوجی اور پولس اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔

یوم عاشورہ کی تقریبات پر ماضی میں سنی شدت پسندوں کی جانب سے بھی حملے کیے گئے ہیں۔

جمعہ کی جھڑپیں شروع ہونے کے کئی گھنٹے بعد وزیر اعظم نوری المالکی نے اعلان کیا کہ دونوں شہروں پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول بحال ہوگیا ہے۔

سولجرز آف ہیون کا ایک اشتہار

پولیس کے مطابق ناصریا میں لڑائی تقریبا دوپہر بارہ بجے شروع ہوئی جب شہر میں پولیس کی ایک چوکی پر مارٹر گولے داغے گئے۔ اس کے بعد گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مشین گن اور راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا۔ ان جھڑپوں میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک اعلی افسر سمیت آٹھ پولیس اہلکار، ایک سولین خاتون اور تین شدت پسند شامل تھے۔

بصرہ پر حملے میں بھی درجنوں لوگ ہلاک ہوئے لیکن پولیس کے مطابق اس گروہ کے سربراہ ابو مصطفی انصاری کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

جنوبی عراق میں شیعہ فرقے بالادستی کی جنگ میں برسر پیکار ہیں۔ جمعہ کو مقتدی الصدر نے بھی وفاقی حکومت کو متنبہ کیا تھا وہ اپنے علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال سے خوش نہیں ہیں اور اس وجہ سے حکومت کے ساتھ اپنی جنگ بندی ختم کرسکتے ہیں۔ مقتدی الصدر مہدی آرمی کے سربراہ ہیں اور حکومت کے ساتھ انہوں نے چھ ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی مدت آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے۔ امریکہ کے مطابق اس جنگ بندی کی وجہ سے عراق میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔

سولجرز آف ہیون گروپ اور امریکی قیادت والی افواج کے درمیان گزشتہ برس اس وقت لڑائی ہوئی تھی جب یہ گروہ مبینہ طور پر نجف پر حملہ کرنے اور اعلی ترین شیعہ مذہبی رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا منصبوبہ بنارہا تھا۔ لڑائی میں گروہ کے سربراہ ضیاء عبدلزہرہ بھی ہلاک ہوئے تھے جو خود کو امام مہدی مانتے تھے۔

عراقی بچے(فائل فوٹو)بھوکے اور بیمار بچے
’عراقی جنگ کی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں‘
عراقڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں
امریکی حملے کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاکتیں
 عراق ’کامیابی پر واپسی‘
عراق فوجیوں کی واپسی اعلان یا صرف دکھاوا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد