بغداد: مرنے والوں کی تعداد ننانوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے دو مختلف بازاروں میں جمہ کو دو دھماکوں میں زخمی ہونے والے کئی افراد دم توڑ گئے ہیں اور اب ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد ننانوے ہو گئی ہے۔ ایک سینئر عراقی سکیورٹی اہلکار کے مطابق یہ دونوں خود کش حملے تھے جن میں دو عورتوں کو استعمال کیا گیا جن کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے برگیڈیئر قاسم عطا الموسوی کا کہنا تھا کہ یہ القاعدہ کا پسندیدہ طریقہ ورادات ہے۔ گزشتہ برس امریکی فوجیوں کی طرف سے بغداد میں سکیورٹی بہتر بنانے کے اقدامات کے بعد سے کسی ایک دن میں بغداد میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی یہ سب بڑی تعداد ہے۔ عراق میں امریکہ کے سفیر ریان کروکر کا کہنا تھا کہ القاعدہ نے اب دہشتگردی کا ایک ’مختلف اور زیادہ مہلک‘ طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ’ وہ ایسا ہر طریقہ اپنائیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ اس سے تباہی پھیلے گی اور اس کے برے سیاسی نتائج نکلیں گے۔‘ جمعہ کو پہلا دھماکہ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب مویشیوں کی ایک مشہور منڈی میں ہوا تھا جس کے بارے میں ابتدائی اطلاعات یہی تھیں کہ یہ خاتون خود کش حملہ آور کی کارروائی تھی۔ دوسرا دھماکہ اس کے محض بیس منٹ بعد شہر کے مشرقی علاقے کے ایک مصروف بازار میں ہوا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ برس یکم اگست کو بعداد میں ہی تین کار بم دھماکوں میں اسّی سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ غضیل کے علاقے میں مویشیوں کی منڈی میں کیے جانے والے خود کش حملے میں فوری طور پر کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسّی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔یہ ہفتہ وار مویشی منڈی جمعے کو لگتی ہے اور گزشتہ سال میں دو دھماکے ہونے کے باوجود یہاں لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس اہلکاروں اور امدادی عملے نے زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ریڑھیوں، کاروں اور پِک اپ ٹرکوں میں ڈال کر بغداد کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا تھا۔ دوسرا دھماکہ بغداد کے علاقے جدیدہ میں ہوا تھا جس میں دس افراد ہلاک اور کم سے کم تیس زخمی ہوئے۔ جمعہ کو ایک ہسپتال کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان کے ہاں کم سے کم تیس لاشیں پہنچائی گئی ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا ’ یہاں تباہی پھیلی ہوئی ہے، لاشیں گِنی نہیں جا رہیں۔‘ | اسی بارے میں عراق، القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری 11 January, 2008 | آس پاس عراق: دھماکے میں چھ امریکی ہلاک09 January, 2008 | آس پاس ’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘09 January, 2008 | آس پاس حملوں میں آٹھ عراقی ہلاک07 January, 2008 | آس پاس بیس لاکھ عراقی بچے مسائل کا شکار21 December, 2007 | آس پاس خاتون بمبار کا حملہ، 16 ہلاک07 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||