BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 03:49 GMT 08:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق پر حملے کا فیصلہ درست تھا‘
عراق پر قبضے کے پانچ سال مکمل ہونے پر صدر بش نے تقریر کی
امریکہ کے صدر جارج بش نے عراق پر حملے کے پانچ سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ صدام حسین کو عراق میں اقتدار سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ دنیا آج زیادہ محفوظ ہے کیوں کہ امریکہ نے ایک عملی قدم اٹھایا تھا۔

عراق پر امریکی حملے کے پانچ سال پورے ہونے پر ایک طرف تو امریکہ کے صدر نے خطاب کیا تو دوسری طرف جنگ مخالف لوگوں نے ملک کے مختلف شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے کیئے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جاری دوڑ میں شامل سینٹر باراک اوباما نے کہا کہ عراق پر جنگ کرنے کا فیصلہ ایک نظریہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا نہ کہ حقائق اور دلیل کی بنیاد پر۔

عراق پر حملے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عراق پر فوجی کارروائی کے اخراجات کو اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قیمت کا موزانہ اگر دشمن کی کامیابی کی صورت میں حاصل ہونے والے فوائد سے کیا جائے تو بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں حالیہ اضافے سے دہشت گردی کے خلاف وسیع تر جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

جنگ مخالف مظاہرے کئی شہروں میں کیئے گئے

صدر بش نے کہا کہ عراق میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف جنگ سے امریکہ پر دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کو کم کرنےمیں بہت مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جو بغداد کی گلیوں میں بے گناہ افراد کو ہلاک کر رہے ہیں وہ امریکہ کے شہروں اور گلیوں میں معصوم لوگوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا ’اس دشمن کو عراق میں شکست سے دوچار کرنے کے بعد اس بات کا امکان کم رہ جائے گا کہ ہمیں اس کا اپنے گھر میں سامنا کرنا پڑے۔‘

صدر بش نے سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے عرب لوگوں کی کونسلوں کے ساتھ مل کر القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا اس طرح القاعدہ اور عرب آبادی کو الگ رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں القاعدہ تنظیم کے خلاف ایک وسیع مزاحمت دیکھنے میں آ رہی ہے جس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم انہوں نے عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ناکام تلاش کے بارے میں کچھ نہیں کہا جس کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔

جس وقت صدر کی تقریر جاری تھی اس وقت واشنگٹن میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کی عمارت کے باہر سے بتیس افراد کو جنگ مخالف مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

یہ مظاہرین ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے باہر اس لیے مظاہرہ کر رہے تھے تاکہ وہ جنگ پر خرچ ہونے والے عوام کے ٹیکسوں کی طرف توجہ مبذول کرا سکیں۔

جنگ مخالف ایک گروہ کی رکن فریدہ بریگان نے کہا کہ وہ ٹیکسوں کے پیسے اور ان ضروریات۔۔ جنگ، قبضہ اور بموں کے درمیان حائل ہونا چاہتے ہیں۔

عراق پر حملے کے اخراجات کے تخمینوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔
کانگرنس کے غیر جانبدار بجٹ آفس کے اندازوں کے مطابق عراق پر جنگی کارروائی پر اب تک چھ سو ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور ان میں اس سال مختص کی جانے والی رقم بھی شامل ہے۔

نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات جوزف سٹگلٹز کے مطابق اگر جنگ کے اخراجات میں سابق فوجیوں کی صحت اور مستبقل میں ہونے والے ممکنہ معاشی نقصانات کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ رقم تین کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

عراق کا تاریخی ورثہ
تاریخی ورثہ جس کو لوٹ لیا گیا
عراقی بچے(فائل فوٹو)بھوکے اور بیمار بچے
’عراقی جنگ کی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں‘
عراقڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں
امریکی حملے کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاکتیں
ہلاکتوں میں اضافہ
عراق میں مرنے والوں کی تعداد میں پھر اضافہ
اجتماعی قبربغداد میں
سو لاشوں پر مشتمل اجتماعی قبر دریافت
ایک زخمی عراقی بچیقبضے کے پانچ سال
عراق میں انسانی بحران بد سے بدتر
عراق جنگنقل مکانی
دو برسوں میں عراقی پناہ گزینوں میں اضافہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد