’عراق پر حملے کا فیصلہ درست تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے عراق پر حملے کے پانچ سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ صدام حسین کو عراق میں اقتدار سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ دنیا آج زیادہ محفوظ ہے کیوں کہ امریکہ نے ایک عملی قدم اٹھایا تھا۔ عراق پر امریکی حملے کے پانچ سال پورے ہونے پر ایک طرف تو امریکہ کے صدر نے خطاب کیا تو دوسری طرف جنگ مخالف لوگوں نے ملک کے مختلف شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے کیئے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جاری دوڑ میں شامل سینٹر باراک اوباما نے کہا کہ عراق پر جنگ کرنے کا فیصلہ ایک نظریہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا نہ کہ حقائق اور دلیل کی بنیاد پر۔ عراق پر حملے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عراق پر فوجی کارروائی کے اخراجات کو اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قیمت کا موزانہ اگر دشمن کی کامیابی کی صورت میں حاصل ہونے والے فوائد سے کیا جائے تو بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں حالیہ اضافے سے دہشت گردی کے خلاف وسیع تر جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
صدر بش نے کہا کہ عراق میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف جنگ سے امریکہ پر دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کو کم کرنےمیں بہت مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جو بغداد کی گلیوں میں بے گناہ افراد کو ہلاک کر رہے ہیں وہ امریکہ کے شہروں اور گلیوں میں معصوم لوگوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا ’اس دشمن کو عراق میں شکست سے دوچار کرنے کے بعد اس بات کا امکان کم رہ جائے گا کہ ہمیں اس کا اپنے گھر میں سامنا کرنا پڑے۔‘ صدر بش نے سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے عرب لوگوں کی کونسلوں کے ساتھ مل کر القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا اس طرح القاعدہ اور عرب آبادی کو الگ رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں القاعدہ تنظیم کے خلاف ایک وسیع مزاحمت دیکھنے میں آ رہی ہے جس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ناکام تلاش کے بارے میں کچھ نہیں کہا جس کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔ جس وقت صدر کی تقریر جاری تھی اس وقت واشنگٹن میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کی عمارت کے باہر سے بتیس افراد کو جنگ مخالف مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ یہ مظاہرین ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے باہر اس لیے مظاہرہ کر رہے تھے تاکہ وہ جنگ پر خرچ ہونے والے عوام کے ٹیکسوں کی طرف توجہ مبذول کرا سکیں۔ جنگ مخالف ایک گروہ کی رکن فریدہ بریگان نے کہا کہ وہ ٹیکسوں کے پیسے اور ان ضروریات۔۔ جنگ، قبضہ اور بموں کے درمیان حائل ہونا چاہتے ہیں۔ عراق پر حملے کے اخراجات کے تخمینوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات جوزف سٹگلٹز کے مطابق اگر جنگ کے اخراجات میں سابق فوجیوں کی صحت اور مستبقل میں ہونے والے ممکنہ معاشی نقصانات کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ رقم تین کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||