عراق کا عجائب کھول دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے قومی عجائب گھر نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران منتخب لوگوں کو عجائب گھر میں بچ جانے والے ملک کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے قیمتی نوادرات کو دیکھنے کا موقعہ دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ عراق کے اس معروف عجائب گھر کو سن دو ہزار تین کے بعد چند لوگوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران اس عجائب گھر کو لوٹ لیا گیا تھا اور عجائب گھر سے بہت سے تاریخی نوادارات چرا لیئے گئے تھے۔ عجائب گھر کے حکم نے بہت سے قیمتی اور انمول نوادارت بازیاب کرا لیے تھے لیکن اب بھی بہت سے قیمتی نوادارت کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ عراق کے قومی عجائب گھر کا ’اشوریہ ہال‘ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اس دور کے شاہی محل کی پتھر کی سلیں دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں اور دو دیو قامت پروں والے بھینسے جن کے چہرے انسانوں کے ہیں اس ہال میں استعدا ہیں۔ عجائب گھر کے اس حصہ یا گیلری کو سیاحوں کے لیے کھولا گیا ہے اور اس کا کھلانا عراق کے موجودہ حالات میں ایک حیران کن بات ہے۔ عراق پر امریکی حملے سے قبل یہ قومی عجائب گھر دنیا میں تاریخی نودارات کا ایک بہت بڑا خزینہ تھا۔ عجائب گھر کے اشوریہ ہال ہی سن دو ہزار میں ہونے والی لوٹ مار میں محفوظ رہا تھا کیونکہ اس ہال میں موجود پتھر کے نوادارت اس قدر وزنی اور بڑے تھے کہا انہیں اٹھا کر لیے جانا ممکن نہیں تھا۔ تاہم اس ہال کو بھی سن دو ہزار تین میں حکام کے معائنے کے لیے کھولنے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ عجائب گھر کے حکام نے اب اس گیلری کو مخصوص لوگوں کے لیے کھول دیا ہے۔ تاہم عجائب گھر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر عامرہ عدن کا کہنا ہے کہ وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ عجائب گھر کو عام لوگوں کے لیے کھولا جائے۔ ڈاکٹر عامرہ عدن کا کہنا تھا کہ’ مجھے امید ہے کہ پورا عجائب گھر سیاحوں کے لیے کھول سکیں گے۔ اس میں بہت سے گیلریاں ہیں۔ اس میں سمرین ہال ہے، اس میں قدیم بابل کے دور کی گیلری ہے۔ کاش میں بتا سکتی کہ کب لیکن یہ ملک کی سلامتی کی صورت حال پر منحصر ہے۔ یہ عراقی لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ یہ عجائب گھر محفوظ رہے۔ ہم دوبارہ یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ جو سن دوہزار تین میں ہوا۔ سن دو ہزار تین میں اس عجائب گھر سے لوٹے جانے والے بہت سے نوادارت کو بازیاب کرا لیا گیا ہے لیکن بہت سوں کا اب بھی کچھ پتہ نہیں۔ لیکن عراق کے لوگوں کے لیے یہ عجائب گھر ان کے شاندار ماضی کی ایک نشانی ہے اور مستبقل کی ایک امید بھی۔ | اسی بارے میں سینکڑوں سال پرانے گلدان کی واپسی21 February, 2006 | آس پاس میلے کی بھیڑ میں تصویریں چوری25 February, 2006 | آس پاس امریکہ ماسک واپس کرے: مصر25 February, 2006 | آس پاس فرانس سعودیہ سے تعاون چاہتا ہے04 March, 2006 | آس پاس جدید اسلامی دنیا آرٹ کے رنگوں میں17 May, 2006 | آس پاس عجائب گھر سے چوری پر دوگرفتار07 August, 2006 | آس پاس امن کے لیے افغان خواتین کی دعائیہ تقریبات13 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||