امریکہ ماسک واپس کرے: مصر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر نے امریکہ کے ایک عجائب گھر سے کہا ہے کہ وہ اس کا تین ہزار سال پرانا ماسک (میت کے چہرے کا قالب) واپس کرے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ اسے کئی دہائیاں پہلے مصری دارالحکومت کے عجائب گھر سے چرایا گیا تھا۔ اس ماسک کا نام ’کا نیفر نیفر‘ کا ماسک ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق انیسویں سلطنت یعنی 1307 سے 1196 قبل مسیح کے زمانے سے ہے۔ مصر کی آثارِ قدیمہ کی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ یہ ماسک انیس سو باون میں قاہرہ کے قریب سقارا کے اہرام سے دریافت کیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ بعد میں اسے چرا کے سمگل کیا گیا اور اس طرح یہ انیس سو اٹھانوے میں ’مسوریز سینٹ لوئس آرٹ میوزیم‘ پہنچا۔ مصر کے آثارِ قدیمہ کے سربراہ زاہی ہواس کا کہنا ہے کہ ’ماسک بہت اچھی حالت میں ہے اور یہ کا نیفر نیفر نامی ایک جوان خاتون کے اوپر والے دھڑ پر مشتمل ہے۔ اس میں شیشے کی آنکھیں کندہ کی گئی ہیں، اس کے چہرے پر سونا لگا ہوا ہے اور اس پر نقلی بال بھی لگائے گئے ہیں‘۔ پراسرار گمشدگی اس ماسک کی گمشدگی کی وجوہات میں اس کی نامناسب حفاظت اور غیر معیاری ضابطے جیسی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ یہ ماسک کئی سال کی گمشدگی کے بعد امریکی منڈی میں ’ظاہر‘ ہوا جہاں اسے انیس سو اٹھانوے میں خریدا گیا۔ سینٹ لوئس آرٹ میوزیم کی ترجمان جینیفر سٹوفیو نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ادارے کو مصر کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بتایا ہے کہ ’ہم نے انہیں مزید معلومات کے لیے لکھا ہے۔ ہم اس مسئلے کا حل چاہیں گے کیونکہ ہمارے خیال میں اسے کسی غیر قانونی یا نامناسب طریقے سے حاصل نہیں کیا گیا‘۔ مصر کی آثارِ قدیمہ کی کونسل نے سویٹزرلینڈ کے بیزل میوزیم سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شاہ امین ہوتپ سوئم کے مجسمے کی بائیں آنکھ انہیں واپس کی جائے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اسے لکسر کے ایک مندر سے چرایا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں امریکہ:چینی مسلم نے دریافت کیا؟13 January, 2006 | آس پاس حجاز ریلوے کی تاریخ اور خزانے کی تلاش16 January, 2006 | آس پاس عراق کی لٹی پٹی تاریخ25 April, 2005 | آس پاس آچے کی کہانی14 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||