BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حجاز ریلوے کی تاریخ اور خزانے کی تلاش
ہجاز ریلوے حاجیوں کو لانے کے شروع کی گئی تھی
ہجاز ریلوے حاجیوں کو لانے کے شروع کی گئی تھی
حجاز ریلوے قریباً سو سال پہلے قائم کیا گیا تھا تاکہ حاجیوں کو استنبول سے مدینہ لے جایا جاسکے تاہم پہلی جنگ عظیم کے دوران لارنس آف عربیہ نے اسے تباہ کردیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریلوے لائن کے کچھ حصے اور سو سال پرانے انجن اور چند ڈبے اب بھی موجود ہیں جنہیں مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار میلکم نے دمشق میں ان ٹرینوں کے استعمال کا احوال یوں بیان کیا ہے۔

حجاز ریل میں نے پہلی مرتبہ دمشق کے خادم ریلوے سٹیشن پر دیکھی۔ ٹرین کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف بھاپ ہی بھاپ تھی اور تیل کی بدبو بھی۔

بھاپ سے چلنے والی یہ ٹرین انیس سو چودہ میں بنائی گئی تھی۔ اب یہ اردن کی سرحد تک سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے میں ایک صدی پرانی ریلوے کی تاریخ کا حصہ ہوں۔

ٹرین کے انچارج انجینیئر نے بتایا کہ اس زمانے میں بنائی گئی گیارہ ٹرینوں میں سے صرف یہ ایک قابل استعمال ہے۔ ساتھ ہی اس نے اشارے سے بتایا کہ بقیہ دس انجن یہاں تھے۔ گھاس اور جھاڑیوں میں بھری وہ جگہ پرانے انجن اور ڈبوں کا قبرستان معلوم ہوتی تھی۔

انِہیں میں ایک ٹرین کا ڈبہ ایسا تھا جسے مدینہ پہنچنے کے لیے ریگستان میں چار روز طویل سفر کے دوران ممکنہ حملوں سے نبرد آزما ہونے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔ اس میں مسلح سکیورٹی افراد کے گولی چلانے کے لیے سوراخ تھے۔

سامان لے جانے والی ٹرین جس جگہ تک لے جائی جاتی ہے وہاں اچانک ہی ریل کی پٹری ختم ہوجاتی ہے اور سامنے گہرا اور وسیع خلاء ہے۔ اس جگہ ایک پل ہوا کرتا تھا جسے برس ہا برس پہلے آنے والے سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا تھا۔

یہ ریلوے لائن حاجیوں کےقافلوں کے قدیم راستہ پر تعمیر کی گئی تھی

دمشق کے خادم سٹیشن پر میں نے آٹھ چھوٹے بچے دیکھے جن میں سے سات بچیاں اور ایک بچہ تھا اور اپنے باپ کی غیر موجودگی میں اپنے والد کی نمائندگی کررہا تھا۔ اس نے مجھے تمام بچوں کے نام بتائے اور مترجم کے ذریعے بتایا کہ وہ لوگ اس سٹیشن میں پچھلے دس سال سے رہتے ہیں۔ اس بچے کا کہنا تھا کہ اب بہت کم لوگ یہاں رک کر اس ریلوے سٹیشن کے بارے میں کچھ پوچھتے یا دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔

اس ریلوے کے بارے میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک زمانے میں کوئلے کی اتنی کمی ہوگئی تھی کہ انجن چلانے کے لیے لکڑی کا فرنیچر تک استعمال کرلیا گیا۔ کوئلے کی قلت کے باعث اس ریلوے کی ایک خصوصی شاخ قائم کی گئی جو ایک گھنے جنگل سے گزرتی تھی تاکہ انجن میں استعمال کے لیے لکڑی با آسانی مل سکے۔

ایک مقامی کسان نے ایک طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہاں وہ جنگل ہوا کرتا تھا جس کے کچھ حصے اب بھی موجود ہیں۔ وہ مقامی کسان ہمارے بارے میں کچھ شکوک و شبہات کا شکار تھا۔ اس نے مجھ پر اور میرے مترجم پر الزام لگایا کہ ہم یہاں کسی خزانے کی تلاش میں آئے ہیں۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ یہاں تو ریلوے بھی صحیح سلامت نہیں ہے، خزانہ کہاں سے ملے گا مگر پھر بھی اس کسان نے ہماری گاڑی کی تلاشی لی کہ ہم اپنے ساتھ زمین کھودنے کا کوئی سامان تو نہیں لائے۔

بعد میں میں نے ایک ماہر ارضیات سے ’خزانے‘ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ماضی میں خزانے کی تلاش میں اس ریلوے کے کئی حصے اور ٹریک تباہ کردیے گئے ہیں۔

اس نے بتایا کہ سٹیشن کے ارد گرد صحرا میں ہم نے جو زمین میں گڑھے دیکھے تھے وہ جنگ عظیم کی بمباری سے نہیں بلکہ خزانے کی تلاش میں آنے والوں نے کیے ہیں۔

اس نے مزید بتایا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں سے گزرنے والے فوجیوں نے اس زمین میں بہت سا سونا دفنا دیا تھا۔

اور اس افسانوی خزانے نے استنبول کے دکانداروں کے لیے ایک اور منافع بخش کاروبار کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہاں کی دکانوں میں اس ریلوے سٹیشن کے نقشے بھاری قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ گارنٹی بھی دی جاتی ہے کہ فلاں مقام پر خزانہ ضرور نکلے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد