عراق:مقتدٰی مذاکرات پر’راضی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ سینئیر شیعہ رہنماؤں کے کہنے پر مہدی آرمی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بات چیت کے لیے اپنے نمائندوں کو عراق کے سرکردہ شیعہ رہنما آیت اللہ علی السیستانی اور ایران میں مقیم آیت اللہ قاضم الحسینی الحیری کے پاس بھیجیں گے۔ اس سے پہلے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا تھا کہ اگر مہدی آرمی غیر مسلح نہ ہوئی تو مقتدی الصدر کے حامیوں کو سیاسی عمل میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ عراقی حکومت کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ہی مہدی آرمی نے شیعہ رہنماؤں سے مزاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی بات کی ہے۔ مقتدی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت میں موجود کچھ عناصر امریکہ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ دو ہفتے قبل عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بصرہ میں مہدی آرمی کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا تھا جس میں دو ہزار فوجی شریک تھے۔ اس آپریشن میں سیکنڑوں افراد ہلاک ہوئے تاہم مہدی آرمی کو غیر مسلح کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ | اسی بارے میں بغداد کرفیو ختم، بصرہ میں نرمی31 March, 2008 | آس پاس عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس عراق: پندرہ ہلاک، ملیشیا پر چھاپے بند04 April, 2008 | آس پاس عراق سے انخلاء کا راستہ نہیں:ماہرین07 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||