بغداد کرفیو ختم، بصرہ میں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام نے سوموار کو بغداد سے کرفیو اٹھا لیا اور لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت دے دی۔بغداد میں جمعرات کو کرفیو لگایا گیا تھا۔ تاہم تین شیعہ اضلاع بشمول صدر سٹی میں ابھی بھی گاڑی چلانے کی ممانعت ہے۔ ان تین اضلاع میں پچھلے ہفتے گھمسان کی جنگ ہوئی تھی۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مہدی آرمی کی ملیشیا سڑکوں سے واپس چلی گئی ہے۔ اتوار کو مہدی آرمی کے قائد مقتدٰی الصدر نے ملیشیا کو عراقی سیکورٹی فورسز سے نہ لڑنے کا حکم دیا تھا۔ بصرہ میں کافی حد تک امن و امان ہے تاہم کچھ علاقے مہدی آرمی کے زیرکنٹرول ہیں اور وہاں سے فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ عراقی فوج نے شیعہ ملیشیا کے خلاف کارروائی کی تھی۔ سوموار کو بغداد میں گرین زون میں واقع حکومتی اور سفارتخانوں کی عمارات پر راکٹ داغے گئے تاہم جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔ بغداد کے رہائشی سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اشیاء خوردونوش کی دکانوں کے سامنے قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ بصرہ میں صبح کے وقت کرفیو میں نرمی کی گئی تاہم رات کو کرفیو دوبارہ لگا دیا جائے گا۔ اتوار کو مقتدٰی الصدر نے ایک بیان میں کہا کہ ’مذہبی ذمہ داری اور عراقی خون کو بہنے سے روکنے کے لیے ملیشیا بصرہ اور دیگر صوبوں میں مسلح مزاحمت ختم کر رہی ہے۔ اسلحہ سے لیس اور حکومتی اداروں کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی شخص ہم میں سے نہیں ہوگا‘۔ مقتدٰی الصدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عام معافی کا قانون لاگو کرے، نظربند افراد کو رہا کرے اور غیرقانونی چھاپے اور گرفتاریاں بند کرے۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ عراقی حکومت کے ساتھ مل کر امن و امان بہتر کریں اور جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات درج کریں۔
عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ترجمان نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم مقتدٰی الصدر کے ساتھی حازم العراجی نے صحافیوں کو بتایا کہ مقتدٰی کے بیان کا مطلب اسلحہ حکومت کے حوالے کرنا نہیں ہے۔ بی بی سی کے آدم بروکس نے بغداد سے بتایا کہ اس کا مطلب ہے کہ مہدی آرمی برقرار رہے گی۔ اگرچہ عراقی وزیراعظم فتح کا دعوٰی کر سکتے ہیں مگر اصل مطالبہ نہیں مانا گیا ہے اور یہ اس تصادم کا حل نہیں ہے۔ بصرہ میں پچھلے منگل کو لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب وزیراعظم نے شہر میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کا تہیہ کیا تھا۔ انہوں نے ملیشیا کو آٹھ اپریل تک اپنا اسلحہ حکومت کے حوالے کر کے اس کے عوض رقم لینے کی ڈیڈلائن دی تھی۔ ہفتہ کو امن امان کی صورتحال خراب ہوتی نظر آئی جب بغداد اور بصرہ میں شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ اس لڑائی میں اتحادی فوج نے بھی حصہ لیا جس میں امریکہ نے ہوائی حملے کیے اور برطانوی فوج نے بصرہ میں لڑائی میں حصہ لیا۔ | اسی بارے میں مقتدیٰ الصدر کی جانب سے فائربندی30 March, 2008 | آس پاس عراق کیلیے فیصلہ کن لمحہ ہے: بش28 March, 2008 | آس پاس بصرہ: بہّتر گھنٹے کا الٹی میٹم 26 March, 2008 | آس پاس لڑائی پھیل گئی، چھیالیس ہلاک26 March, 2008 | آس پاس لڑائی پھیل گئی، چھیالیس ہلاک25 March, 2008 | آس پاس بغداد: راکٹوں کی بوچھاڑ، 50ہلاک23 March, 2008 | آس پاس شام میں عراقی مہاجرین، انسانی المیہ21 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||