BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 March, 2008, 22:57 GMT 03:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: راکٹوں کی بوچھاڑ، 50ہلاک
 گرین زون
گرین زون میں داخل ہونے کے لیے ایک سخت حفاظتی حصار کو عبور کرنا پڑتا ہے
بغداد کے سخت ترین حفاظت والے علاقے، گرین زون پر راکٹوں کی بوچھاڑ میں کم از کم پندرہ لوگ ہلاک ہو گئے۔

امریکہ کی فوج نے عراق پر قبضے کے بعد بغداد کے مرکزی علاقے کو گرین زون کا نام دے کر وہاں ایک حفاظتی حصار قائم کیا۔ امریکہ اور اس اتحادیوں ممالک کے عہدیدار اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔اس علاقے میں داخل ہونے کے لیے ایک سخت حفاظتی حصار کو عبور کرنا پڑتا ہے۔

اتوار کو گرین زون پر ہونے والے حملہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس علاقے پر ہونےوالےحملوں میں سب سے شدید تھا جس کے دوران علاقے میں دیر تک راکٹ اور مارٹر گولے برسائے جاتے رہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک خاندان کے پانچ فرد بھی شامل ہیں۔

اتوار کے روز عراق میں ہونے والے تشدد میں کم از کم پچاس لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔عراقی شہر موصل میں فوجی کیمپ پر خود کش حملے میں کم از کم تیرہ عراقی فوجی مارے گئے۔

موصل میں ہونے والے خود کش حملے میں بارود سے بھرے ٹرک کا استعمال کیا گیا اور اس واقعے میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئے۔

عراقی فوجی افسر میجر محمد احمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور نےسات بجے ٹرک داخلی رکاوٹوں سے ٹکرایا۔

دوسرا خودکش دھماکہ بغداد میں ہوا جہاں ایک حملہ آور نے پٹرول پمپ کے باہر لگی قطار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

بغداد میں ہی فائرنگ کے ایک واقعے میں تین کاروں میں سوار مسلح افراد نے جنوبی بغداد کے علاقے زعفرینیہ میں واقع ایک بازار میں موجود افراد پر فائر کھول دیا جس سے چھ راہگیر مارے گئے جبکہ سولہ افراد زخمی ہوئے۔

ادھر امریکی فوجی ترجمان کے مطابق سنیچر کو سامرہ کے نزدیک ایک امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر کی جانب سے کئےگئے ایک حملے میں اس وقت چھ عراقی ہلاک ہو گئے جب کچھ لوگوں کو مشکوک دہشتگرد کارروائیاں کرتے دیکھا گیا۔

امریکہ نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ سامرہ میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق اویکننگ کونسل سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے جس میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سامرہ میں اویکننگ کونسل کے مقامی رہنما ابو فاروق نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ان کے گروپ کے رکن تھے جو چیک پوائنٹ پر تعینات تھے۔ابو فاروق کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے نمایاں طور پر گروپ کی جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں جو اندھیرے میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد