کربلا: خاتون بمبار حملہ، 42 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مقدس شہر کربلا میں ایک خاتون خود کش بمبار کے حملے میں کم از کم بیالیس افراد کو ہلاک اور اٹھاون کو زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ امام حسین کے روضہ کے قریب ایک کیفے میں ہوا اور دھماکے کے نتیجے میں لاشیں سڑک پردور دور تک بکھر گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سات ایرانی بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس مقدس شہر کو ہوناک بموں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور گزشتہ اپریل میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے دوران سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام اس دھماکے کی ذمہ داری کا شک القاعدہ کے سرکشوں پر کر رہے ہیں لیکن اب کسی نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس دوران عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک فٹبال گراؤنڈ نامعلوم سرکشوں کے ایک دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بغداد میں اور نواح کے دیگر واقعات میں دو عراقی شہری اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے اور ہلاکتیں اس وقت ہوئی ہیں جب امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی عراق کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس ’ترکی فوجی آپریشن جلد ختم کرے‘27 February, 2008 | آس پاس عراق خودکش حملہ، سات ہلاک20 February, 2008 | آس پاس فوجیوں کی واپسی، وقفہ کی تجویز11 February, 2008 | آس پاس عراق: پانچ امریکی فوجی ہلاک 09 February, 2008 | آس پاس ’نوعمر لڑکوں کی مسلح تربیت‘07 February, 2008 | آس پاس عراق: پانچ امریکی فوجی ہلاک28 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||