 | | | حملے کے بعد عمارتوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا |
عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت مختلف شہروں میں دو خودکش حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ خود کش حملے کا پہلا واقعہ عراق کے شہر موصل میں واقع فوجی اڈے پر پیش آیا اور اس میں کم از کم تیرہ عراقی فوجی مارے گئے۔ موصل میں ہونے والے خودکش حملے میں بارود سے بھرے ٹرک کا استعمال کیا گیا اور اس واقعے میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئے۔عراقی فوجی افسر میجر محمد احمد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’حملہ آور نے ٹرک داخلی رکاوٹوں سے ٹکرایا اور سات بجے کے قریب دھماکا ہوا‘۔ دوسرا خودکش دھماکہ بغداد میں ہوا جہاں ایک حملہ آور نے پٹرول پمپ کے باہر لگی قطار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ بغداد میں ہی فائرنگ کے ایک واقعے میں تین کاروں میں سوار مسلح افراد نے جنوبی بغداد کے علاقے زعفرینیہ میں واقع ایک بازار میں موجود افراد پر فائر کھول دیا جس سے چھ راہگیر مارے گئے جبکہ سولہ افراد زخمی ہوئے۔ اتوار کی صبح بغداد میں ز بردست سکیورٹی والےگرین زون پر راکٹ اور مارٹر حملے بھی ہوئے ہیں۔حملے کے بعد عمارتوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ بغداد کے جنوبی شہر کرکوک میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا جس میں پانچ فوجی مارے گئے۔  | | | گرین زون پر راکٹ اور مارٹر حملے بھی ہوئے |
ادھر امریکی فوجی ترجمان کے مطابق سنیچر کو سامرہ کے نزدیک ایک امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر کی جانب سے کئے گئے ایک حملے میں اس وقت چھ عراقی ہلاک ہو گئے جب کچھ لوگوں کو مشکوک دہشت گرد کارروائیاں کرتے دیکھا گیا۔ امریکہ نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ سامرہ میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق اویکننگ کونسل سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے جس میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سامرہ میں اویکننگ کونسل کے مقامی رہنما ابو فاروق نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ان کے گروپ کے رکن تھے جو چیک پوائنٹ پر تعینات تھے۔ابو فاروق کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے نمایاں طور پر گروپ کی جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں جو اندھیرے میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ |