لڑائی پھیل گئی، چھیالیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں عراق کی سکیورٹی فورسز اور شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی ملیشیا مہدی آرمی کے ارکان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک ان جھڑپوں میں چھیالیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ جھڑپیں عراق کے جن دوسرے حصوں تک پھیل گئی ہیں ان میں بغداد میں واقع صدر سٹی شامل ہے۔ بغداد کے محفوظ ترین علاقے گرین زون میں راکٹ داغے جانے کے بعد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ گرین زون میں پانچ عراقی شہری ہلاک اور تین امریکی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی مہدی آرمی کے خلاف شروع کیے جانے والی کارروائی کی نگرانی کے لیے بصرہ پہنچ چکے ہیں۔ نوری المالکی نے مسلح جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ بصورت دیگر ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ طبی امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب تک چھیالیس لوگ ہلاک اور دو سو پچیس زخمی ہوچکے ہیں۔ بصرہ کی شہری کونسل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہے کیوں کہ لوگ اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ بصرہ مہددی آرمی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مہدی آرمی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق بصرہ میں لڑائی کا آغاز حکومت کی طرف سے مہدی ملیشیا کے زیر اثر علاقوں میں مختلف جرائم پیشہ اور مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی سے ہوا۔ بی بی سی کے تجزیہ نگاروں کو کہنا ہے کہ حکومت تشدد کے ان واقعات کو پوری طرح روکنا چاہتی ہے۔ بصرہ میں حکام نے سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ کُٹ، سماوا، نصریہ، ہلہ اور دیوانیاہ میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ برطانوی افواج جنہوں نے شہر کا انتظام گزشتہ سال دسمبر میں عراقی حکومت کے حوالے کر دیا تھا کا کہنا ہے کہ وہ عراقی حکومت کی طرف سے شروع کی جانے والی کارروائی کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم اتحادی افواج کے لڑاکا طیارے شہر کی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ مقتدی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اکتوبر کے صوبائی انتخابات سے قبل انہیں کمزور کرنا ہے۔ بی بی سی کے راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ المالکی کی حکمتِ عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اگر مقتدی الصدر کی جانب سے پچھلے ایک برس سے جاری سیز فائر پر عمل درآمد ختم کر دیاگیا تو اس سے عراقی حکومت اور بش انتظامیہ کے ان دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی کہ عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہورہا ہے اور ملک اب سیاسی مفاہمت کی طرف روانہ ہے۔ گزشتہ روز بصرہ کے کئی علاقوں سے دھوئیں کے کالے بادل اٹھتے دکھائی دیئے جبکہ فضا لڑاکا طیاروں کی آوازوں سے گونجتی رہی۔ سکیورٹی فورسز تشدد سے متاثرہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے نہیں دے رہی ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس لڑائی میں کس کا پلڑا بھاری ہے۔ کرنل کریم الزیدی نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو شہر کے مرکزی علاقوں میں مہدی آرمی کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ رائٹرز ٹیلی ویژن کی طرف سے جاری کی جانے والی تصاویر میں مسلح افراد کو شہر کی سڑکوں پر ماٹر چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ایجنسی کے مطابق کچھ جگہوں پر مسلح افراد عراقی فوج اور پولیس کی چھینی گئی گاڑیوں میں گشت کر رہے تھے۔ بصرہ میں جاری فوجی کارروائی کی نگرانی خود وزیر اعظم نورالمالکی کر رہے ہیں جسے واشنگٹن نے سراہا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہےکہ وزیر اعظم نورالمالکی نے خود بصرہ جا کر اس کارروائی کی نگرانی کرکے نہایت جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ | اسی بارے میں عراق سےفوج کی واپسی: اعلان متوقع21 February, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوج کا منفی اثر پڑا‘15 December, 2007 | آس پاس بصرہ کی سکیورٹی سےدستبردار16 December, 2007 | آس پاس بصرہ کا انتظام عراقی فوج کےحوالے16 December, 2007 | آس پاس برطانوی فوج بصرہ سے بھاگی:الظواہری17 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||