BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑائی پھیل گئی، چھیالیس ہلاک
بدھ کے روز جنگجو پوزیشنز لیتے ہوئے
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بصرہ میں سیکیورٹی فورسز اور مہدی آرمی میں سے کون بہتر پوزیشن میں ہے۔
عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں عراق کی سکیورٹی فورسز اور شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی ملیشیا مہدی آرمی کے ارکان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اب تک ان جھڑپوں میں چھیالیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

یہ جھڑپیں عراق کے جن دوسرے حصوں تک پھیل گئی ہیں ان میں بغداد میں واقع صدر سٹی شامل ہے۔ بغداد کے محفوظ ترین علاقے گرین زون میں راکٹ داغے جانے کے بعد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

گرین زون میں پانچ عراقی شہری ہلاک اور تین امریکی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی مہدی آرمی کے خلاف شروع کیے جانے والی کارروائی کی نگرانی کے لیے بصرہ پہنچ چکے ہیں۔ نوری المالکی نے مسلح جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ بصورت دیگر ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

طبی امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب تک چھیالیس لوگ ہلاک اور دو سو پچیس زخمی ہوچکے ہیں۔ بصرہ کی شہری کونسل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہے کیوں کہ لوگ اپنے گھروں تک محدود ہیں۔

بصرہ مہددی آرمی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مہدی آرمی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

بصرہ میں حکام نے سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ کُٹ، سماوا، نصریہ، ہلہ اور دیوانیاہ میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

برطانوی افواج جنہوں نے شہر کا انتظام گزشتہ سال دسمبر میں عراقی حکومت کے حوالے کر دیا تھا کا کہنا ہے کہ وہ عراقی حکومت کی طرف سے شروع کی جانے والی کارروائی کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم اتحادی افواج کے لڑاکا طیارے شہر کی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔

مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اکتوبر کے صوبائی انتخابات سے قبل انہیں کمزور کرنا ہے۔ بی بی سی کے راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ المالکی کی حکمتِ عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطاق اگر مقتدہ الصدر کی جانب سے پچھلے ایک برس سے جاری سیز فائر پر عمل درآمد ختم کر دیاگیا تو اس سے عراقی حکومت اور بش انتظامیہ کے ان دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی کہ عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہورہا ہے اور ملک اب سیاسی مفاہمت کی طرف روانہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد