بغداد: تین امریکی فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ بغداد کے مشرق علاقے میں لڑائی کے دوران اس کے تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مہدی ملیشیاء سے گزشتہ تین روز کی لڑائی میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے۔ اس سے قبل امریکی فوج نے دعوی کیا تھا کہ بغداد میں لڑائی میں اس نے شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے اڑتیس مسلح افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملیشیا کے بائیس ارکان صرف ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے جب امریکی ٹینکوں نے ایک چوکی پر حملے کے جواب میں کارروائی کی تھی۔ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا کہ صدر شہر میں مجرموں اور ان جنگجؤں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو گرین زون پر راکٹ داغنے میں ملوث ہیں۔ بغداد شہر کا مشرق علاقہ صدر سٹی شیعہ رہنما مقتدی الصدر کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق مسلح جنگجوؤں نے اتوار کو ریت کے طوفان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گرین زون پر راکٹ داغے۔ بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار کلاویو مائیر نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے کے دوران مقامی لوگ گھروں میں رہے جبکہ امریکی فضائیہ ریت کے طوفان کے باعث کوئی کارروائی نہیں کر سکی۔ سوموار کی صبح تک گرین زون کے انہتائی سکیورٹی والے علاقے پر جہاں حکومتی دفاتر اور سفارت خانے قائم ہیں راکٹ اور ماٹر گولوں داغے جا رہے تھے۔ امریکی اور عراقی حکام ان حملوں کا ذمہ دار مہدی ملیشیا کے ارکان کو ٹھہراتی ہے۔ شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے جمعہ کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اتوار کو انہوں نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ شرائط کو رد کر دیا تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان میجر مارک سیڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ تشدد میں اضافہ گرین زون پر حملے روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے بعد ہوا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: بم دھماکے میں تیس ہلاک17 April, 2008 | آس پاس مالکی کا علاقائی حمایت کا مطالبہ22 April, 2008 | آس پاس حکومت کی شرائط رد کر دیں27 April, 2008 | آس پاس بغداد: تین امریکی فوجی ہلاک28 April, 2008 | آس پاس عراق: تاریخی نوادرات کی واپسی28 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||