عراقی انتخابات پر امن اور پرسکون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اگرچہ تشدد آمیز واقعات میں کمی آئی ہے تاہم عراق اب بھی ایک خطرناک جگہ ہے۔ سنیچر کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر ملک بھر میں امن ضرور تھا مگر امن ابھی یہاں پوری طور پر قائم نہیں ہوا ہے۔ ان انتخابات میں اگرچہ ووٹوں کی شرح کم رہی مگر پھر بھی یہ تاریخی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات پرسکون رہے۔ زیادہ تر علاقوں میں ووٹوں کی شرح کم رہی لیکن سنی علاقوں میں صورتحال مختلف تھی جہاں بہت سے افراد پہلی مرتبہ ووٹ ڈال رہے تھے۔ عراقیوں کا کہنا ہے کہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک یہ دن خاموش ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ انتخابات کے موقع پر صرف بغداد میں ایک جگہ گولی چلنے کا واقعہ ہوا ہے۔ صرف دو سال قبل ایک دن میں سو حملوں کی شرح پائی جاتی تھی۔ ماضی میں گولہ باری، حملوں اور دیگر پرتشدد واقعات کاایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی تاہم سنیچر کے انتخابات کا یہ دن غیر معمولی طور پر خاموش محسوس ہوا۔ اس موقع پر ماحول قدرے خوشگوار رہا۔ پولنگ سٹیشنوں کی جانب بڑھتے لوگ لوگ خوش اور مطمئن نظر آئے۔ اس موقع پر ذرائع آمدو رفت پر پابندی تھی۔ عراق کی خالی گلیاں فٹ بال کھیلنے والے بچوں کے لیے مناسب کھیل کا میدان بن گئیں۔ تاہم جن پولنگ سٹیشنوں کا دورہ میں نے کیا وہاں زیادہ ہلچل دیکھنے میں نہیں آئی۔ مغربی بغداد کے ایک پولنگ سٹیشن پر وہاں کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ دسمبر 2005 کی نسبت یہ دن ان کے لیے خاصا غیر مصروف تھا۔
دارالحکومت میں صوبائی کونسل کی 57 نشستوں کے لیے 150 جماعتوں اور 2500 امیدواروں نے حصہ لیا۔ کہا جارہا ہے کہ اس موقع پر ملک بھر میں پانچ لاکھ فوجی اور پولیس اہلکار تعینات تھے۔ دوسرے الفاظ میں تمام سکیورٹی فوج ہی اس موقع پر تعینات تھی۔ ملک میں کہیں کہیں امریکی گشتی فوجی بھی تھے تاہم اہم سکیورٹی کے امور پر ملک ہی کی فوج اور پولیس تعینات تھی۔ ایک پولنگ سٹیشن پر عراق کی سپیشل فورسز کے اہلکار تعینات تھے، جن کے پاس بظاہر پہلے کی نسبت جدید اسلحہ تھا اور وہ ہر ووٹر کی تفصیلی سرچ کررہے تھے۔ سنیچر کی پرامن صورتحال کو عراق کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انتخابات سے قبل، انتخابی مہمات کے دوران آٹھ امید وار ہلاک کیے گئے ہیں۔ اگرچہ تشدد آمیز واقعات میں کمی آئی ہے تاہم عراق اب بھی ایک خطرناک جگہ ہے۔ سنیچر کو امن ضرور تھا مگر امن یہاں پوری طور پر قائم نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: ووٹنگ پرامن، ہائی ٹرن آؤٹ 31 January, 2009 | آس پاس عراق:’طاقت،وسائل کی جنگ جاری‘01 October, 2008 | آس پاس ابو غریب کا بھوت13 December, 2008 | آس پاس المنتظر کی رہائی کیلئے مظاہرے15 December, 2008 | آس پاس ’صحافی اور ایکٹیوسوٹ میں فرق ہونا چاہیے‘ 15 December, 2008 | آس پاس جوتے کے پیچھے کا ’عام عراقی صحافی‘18 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||