نخبت ملک اسلام آباد |  |
| | عراقی حکومت کے اہلکاروں نے صدر بش پر جوتے پھینکنے کے واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے |
امریکی صدر جارج بش پر بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے جوتے پھینکے جانے کے واقعہ پر پاکستانی صحافی کیا کہتے ہیں؟ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سکریٹری جنرل مظہر عباس: ’جنرلسٹ اور پولیٹیکل ایکٹیوسٹ میں فرق ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی جرنلسٹ صدر بش کو اٹھ کے تھپڑ بھی مار دیتا تو وہ ایک جذباتی معاملہ تو ہو سکتا ہے مگر یہ صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہوتی۔‘ آج ٹیلیویژن کے طلعت حسین : ’امریکی صدر پر ہونے والی جوتا باری سے تمام امریکی پالیسی ایک شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے یہ صرف جوتے ہی نہیں تھے بلکہ تمام دنیا میں بش پالیسیوں کے خلاف جو غم و غصہ پایا جاتا ہے اس کا اظہار تھا۔‘ دنیا ٹی وی لاہور کے بیورو چیف رمان احسان: ’اول تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا مگر اب اس واقعہ کے بعد امریکی دفتر خارجہ اور امریکی پالیسی سازوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اب امریکہ کو سوچنا چاہیے کہ عراق کے لیے انہیں اپنی پالیسی میں کیا تبدیلی لانی چاہیے۔‘ ڈان نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف مبشر زیدی: ’یہ انتہائی شدید رد عمل تھا کیونکہ صدر بش اور ان کی پالیسیوں کے حوالے سے کافی نفرت پائی جاتی ہے عراق کے اندر’ ایکسپریس نیوز کے علی جاوید نقوی: ’صدر بش اور ان کی پالیسیوں سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے تاہم کچھ صحافتی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک اچھا اقدام نہیں تھا مگر صدر بش اور امریکی پالیسیوں سے اختلاف رہے گا۔‘ |