جارج حبش ایک اہم فلسطینی رہنما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جورج حبش کئی عشروں تک فلیسطین کے ایک انتہائی اہم شدت پسند رہنما رہے ہیں۔ انہوں نے 1967 میں فلیسطین کی شدت پسند تنظیم پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی) بنائی جسے خاصے عرصے تک فلیسطین دھڑوں کی سب سے خطرناک تنظيم تصور کیا جاتا تھا۔ پی ایف ایل پی گروپ اور اسکے رہنماؤں نے اپنے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے جہازوں کے اغواء کی حکمتِ عملی کی ابتداء کی۔ یاسر عرفات کے الفتح تحریک کے بعد پی ایف ایل پی دوسری ایسی تنظیم تھی جو پی ایل او یعنی فلسطین لبریشن اورگنائزیش میں با اثر ہونے کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر تھی۔ جارج حبش کی پیدائش 1926 میں فلسطین کے علاقے لیڈا میں ہوئی جو اب اسرائیل کا حصہ ہے اور اسے لوڈ کہا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش ایک عیسائی گھر میں ہوئی تھی۔ جب 1948 اسرائیل کی بنیاد رکھی گئی تو ان کا خاندان کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا۔ اس کے بعد حبش نے بیروت کی امریکی امریکی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ حبش کو بہت کم عمری سے ہی سیاست کا جنون تھا۔ وہ ایک عرب قوم پرست تھے اور ’یوتھ آف وینجئنس‘ نامی تحریک میں سرگرم تھے۔ اسی تنظیم نے روایتی عرب حکومتوں پر پُر تشدد حملوں کی حکمتِ عملی کو عام کیا۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے عالمِ عرب کے تصور سے متاثر ہوکر جارج حبش کئی برس تک یہی یقین کرتے رہے کہ عرب ریاستوں کا اتحاد فلیسطین کو آزادی دلا سکتا ہے۔
1967 میں شام اور اردن کے درمیان چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی مصر پر فتح کے بعد عالمِ عرب کا تصور چکناچور ہوگیا۔ اس کے فوراً بعد جارج حبش نے پی ایف ایل پی بنائی۔ گروپ کے افتتاحی بیان میں کہا گیا تھا ’دشمن صرف ایک ہی زبان سمجھتا ہے اور وہ ہے انقلابی تشدد کی زبان۔‘ کچھ ہی سالوں میں پی ایف ایل پی نے اپنے بیان کو حقیقت بنا دیا اور 1968 میں روم سے تل ابیب جانے والا EI AI کا طیارہ اغواء کر لیا۔ یہ اقدام فلیسطینی مزاحمت میں ایک نئی حمکت عملی کی ابتداء تھا۔ اگلے عشرے میں پی ایف ایل پی نے تشدد کے بعض تاریخی حملے کیے۔ اور تشدد کے ان واقعات کے بعد فلیسطینی تحریک عالمی ایجنڈے پر چھاگئی لیکن اس سے فلیسطینیوں کو کوئی ہمدردی حاصل نہیں ہو سکی۔ اسرائیل اور مغربی ملکوں میں بیشتر جارج حبش کو ایک شدت پسند تصور کرتے تھے لیکن بہت سے فلیسطینیوں اور عربوں کی نظر میں وہ ایک محبِ وطن تھے۔ ستمبر 1970 میں پی ایف ایل پی نے چار مغربی طیاروں کو اغواء کیا جنہیں اردن میں تارا گیا ان واقعات کے بعد فلیسطینیوں 1972 میں جارج حبش نے آئرش ریپبلک آرمی، بعدر میناوف گروپ اور جاپان کے ریڈ آرمی گروپ کو لبنان میں اکٹھا کیا اور اسی ماہ میں پی ایف ایل پی اور جاپان کی ریڈ آرمی نے لود کے اسرائیل انٹرنیشنل ائرپورٹ پر چھبیس لوگوں کو ہلاک کر دیا۔
جارج جبش اور یاسر عرفات میں گہری رنجش تھی۔ اور کہا جاتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی رنجش کے سبب ہی ڈاکٹر حبش نے پی ایف ایل پی کی بنیاد ڈالی۔ 1970 کے عشرے میں جب یاسر عرفات نے فلیسطینی تحریک کے لیے عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو پی ایف ایل پی نے روس اور چین کا رخ کرلیا۔ 1990 میں یاسر عرفات فلیسطین کے مسئلے پر اسرائیل سے بات چیت کر رہے تھے تو پی ایف ایل پی نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کے سیاسی سمجھوتے کو مسترد کردیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ فلیسطین کو ایک سیکیولر اور جمہوری ملک بناکر ہی دم لیں گے۔ جارج حبش نے یاسر عرفات اور اسرائیل کے درمیان 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کی شدید مخالفت کی اور اس معاہدے کے بعد انہوں نے فلسطین میں قدم رکھنے سے انکار کر دیا۔ 2000 میں جب جارج حبش نے پی ایف ایل پی کی لیڈر شپ چھوڑی تب تک گروپ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ فلیسطین کے لیے برسوں لڑنے کے بعد جارج حبش کا اردن میں انتقال ہوگيا۔ ان کے انتقال کے بعد انکی اہلیہ نے کہا کہ اپنی آخری وقت پر بھی وہ ٹی وی پر غزا کی خبریں دیکھ رہے تھے۔ |
اسی بارے میں مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی25 January, 2008 | آس پاس راکٹ حملے بند کر دیں: محمود عباس24 May, 2007 | آس پاس فلسطینی بندوقوں کے سائے میں16 May, 2007 | آس پاس کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات16 December, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی:عنان20 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی ہے:عنان19 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||