راکٹ حملے بند کر دیں: محمود عباس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ میں موجود شدت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر راکٹ حملے بند کر دیں کیونکہ ایک’نامعقول‘ عمل ہے اور اس سے قیامِ امن کی کوششوں کو دھچکا پہنچ رہا ہے۔ محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطینی گروپوں کے ساتھ اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نےغزہ کے علاقے پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی کا ایک باہمی معاہدہ ہو جس کا دائرہ کار مغربی کنارے تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے علاقے سے حماس کے تیس سے زیادہ اہم ارکان کو گرفتار کر لیا جن میں فلسطینی حکومت کے وزیر تعلیم بھی شامل ہیں۔ حماس کے تینتیس سینیئر ارکان کو اسرائیلی فوج اور خفیہ داروں نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران نابلوس میں جمعرات کی صبح اپنی تحویل میں لیا۔ اطلاعات کے مطابق نابلوس کے میئر بھی گرفتارشدگان میں شامل ہیں۔ قومی اتحاد کی حکومت میں شامل حماس سے تعلق رکھنے والے وزیرِ تعلیم ناصر الدین الشعیر کی اہلیہ ہدا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو جمعرات کو نابلوس میں ان کے گھر سےگرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ فوجی جیپیں آئیں اور ان میں سوار افراد نے ناصرالدین سے ان کا شناختی کارڈ طلب کیا۔ شناخت کروانے پر وہ انہیں لے کر چلےگئے۔ ہدا کے مطابق’ میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیوں لے جایا جا رہا ہے تو افسر کا کہنا تھا ’ہمیں اس کا حکم ملا ہے‘۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے تاحال اس گرفتاری کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے حماس کے رہنماؤں کے حلاف کارروائی کے بیانات دیے جاتے رہے ہیں۔
اسرائیل نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب غزہ پر پھر حملے کیے ہیں جن میں رقم کی ترسیل کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان ’منی چینجرز‘ کی مدد سے شدت پسندوں کو بیرونِ ملک سے رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم گیارہ شہریوں سمیت تیس سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی اسرائیل پر ایک سو بیس راکٹ فائر کیے ہیں جن سے ایک عورت ہلاک اور سولہ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر فلسطینی شدت پسندوں نے صدر محمود عباس کی جانب سے اسرائیل سے جنگ بندی کے دوبارہ قیام اور الفتح اور حماس کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے خاتمے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ فلسطینی گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ شمال اور جنوب کے تمام فلسطینی علاقوں مکمل امن چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ نومبر میں جنگ بندی اور امن کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کی عملداری میں غزہ اور مغربی کنارے کا علاقہ شامل نہیں تھا۔ | اسی بارے میں غزہ تشدد: عباس اور ہنیہ کی ملاقات23 May, 2007 | آس پاس راکٹ حملہ، اسرائیلی ہلاک21 May, 2007 | آس پاس غزہ پر رات بھر اسرائیلی حملے20 May, 2007 | آس پاس غزہ پر ایک اور اسرائیلی حملہ19 May, 2007 | آس پاس غزہ پراسرائیلی حملے، تصادم جاری 19 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||