جارج حبش انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریڈیکل فلسطینی تنظیم پوپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پیلسٹائن (پی ایف ایل پی) کے بانی جارج حبش اردن میں انتقال کر گئے ہیں۔ انکے ایک درینہ دوست کا کہنا ہے کہ جارج حبش کا انتقال حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔ انکی عمر 80 سال تھی۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے ان کی وفات پر ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ حبش کی سربراہی میں پی ایف ایل پی ایک انتہائی شدت پسند گروپ کے طور پر ابھری تھی جس ننے کئی مرتبہ جہاز ہائی جیک کیےتھے۔ ستمبر 1970 میں اس گروہ نے چار جہاز ہائی جیک کیے اور پھر مسافروں کو نکالنے کے بعد پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کے سامنے ان جہازوں کو بموں سے اڑا دیا تھا۔ گروپ نے ایک اسرائیلی جہاز اور اس کے عملے پر بھی فائرنگ کی، بم چلائے اور ایک مرتبہ تو ویانا میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ممبران کو ایک میٹنگ میں یرغمال بنا لیا تھا۔
جارج حبش فلسطین کے علاقے لیڈا میں پیدا ہوئے جو اب اس اسرائیل میں ہے اور اسے لوڈ کہا جاتا ہے۔ جب 1948 میں جنگ شروع ہوئی تو انہیں وہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔ ان کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا لیکن وہ سیکیولر عرب نیشنلزم پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے 1951 میں عرب نیشنلسٹ موومنٹ بنائی جو بعد میں دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر پی ایف ایل پی بنی۔ 60 کی دہائی میں پی ایف ایل پی نے اپنے حملوں میں تیزی پیدا کی اور فلسطینی مسئلے کو عالمی طور پر روشناس کرایا۔ پی ایف ایل پی نے شروع ہی سے عرب۔اسرائیلی امن مذاکرات اور دو ریاستی منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ حبش اسرائیل سے مذاکرات کرنے پر اکثر یاسر عرفات پر تنقید کرتے رہتے تھے۔ اپنی ساری زندگی انہوں نے اسرائیل کے خلاف تشدد کے استعمال کی حمایت کی ہے۔ اسرائیل نے کئی سال کوشش کی کہ کسی طرح جارج حبش کو گرفتار کرے۔ لیکن اسے اس میں ناکامی ہوئی۔ سن 2000 میں جارج حبش پی ایف ایل پی کی صدارت سے دستبردار ہو گئے تھے۔ پی ایف ایل پی کے سکریٹری جنرل عبدل رحیم ملوح نے کہا ہے کہ حبش ایک ممتاز رہنما تھے جنہوں نے اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے بغیر رکے 60 سال جدوجہد جاری رکھی۔ | اسی بارے میں ’سعدات کے خلاف قتل کا مقدمہ نہیں‘27 April, 2006 | آس پاس حماس: سیاست اور زمینی حقیقت27 January, 2007 | آس پاس لبنان: بدلے کی آگ سے بھری تاریخ28 July, 2006 | آس پاس حماس کیا ہے؟26 January, 2006 | آس پاس ایریئل شیرون: جو جی چاہا وہ کیا05 January, 2006 | آس پاس برغوتی : فتح کے مقبول ترین رہنما27 November, 2005 | آس پاس یاسر عرفات انتقال کرگئے11 November, 2004 | آس پاس یاسر عرفات کون؟ 29 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||