 | | | عراقی حکومت کے اہلکاروں نے صدر بش پر جوتے پھینکنے کے واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے |
ہزاروں عراقیوں نے اس مقامی ٹی وی رپورٹر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج بش پر جوتے پھینکے تھے۔ لوگوں کا ہجوم بغداد کے صدر شہر کے علاقے میں جمع ہو گیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ ’ہیرو منتظر زیدی کو حراست سے رہا کیا جائے۔ عراق کے ایک اور شہر نجف میں بھی زیرِ حراست صحافی کی رہائی کے لیے اسی طرح کے مظاہرے ہوئے ہیں۔ عراقی ٹی وی چینل البغدادیہ کے حکام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ المنتظر کو رہا کیا جائے۔ البتہ عراقی حکومت کے اہلکاروں نے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے منتظر زیدی نے جو کچھ کیا جس میں صدر بش کی توہین بھی شامل ہے اس سے عراقی صحافیوں اور عراقی صحافت کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹی وی چینل کے مالکان آن ایئر معذرت کا اظہار کریں جس کے لیے المنتظر زیدی کام کرتے ہیں۔ ایک عراقی اہلکار کے مطابق صحافی المنتظر زیرِ تفتیش ہیں تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ کیا کسی نے انہیں اس بات کے لیے پیسے تو نہیں دیئے تھے کہ وہ صدر بش پر جوتے پھینکیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ المنتظر کے جوتے ثبوت کے طور پر سرکاری تحویل میں ہیں اور یہ ٹیسٹ بھی کیئے جا رہے ہیں کہ کہیں انہوں نےکوئی نشہ آور شے یا شراب تو نہیں پی رکھی تھی۔ المنتظر کے ٹی وی چینل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں رہا کیا جائے کیونکہ وہ اس آزادیِ رائے کا اظہار کر رہے تھے جس کا سابق صدر صدام حسین کو اقتدار سے معزول کرتے ہوئے امریکہ نے عراقیوں سے وعدہ کیا تھا۔ ادارے کے مطابق: ’منتظر کے خلاف کسی بھی کارروائی کو آمرانہ حکومت کے عمل سے تعبیر کیا جائے گا۔‘ |