عراق: ووٹنگ پرامن، ہائی ٹرن آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں صوبائی کونسلوں کے لئے سنیچر کے روز ملک کے اٹھارہ میں سے چودہ صوبوں میں پرامن ووٹنگ ہوئی ہے جس کے دوران ٹرن آؤٹ اچھا رہا ہے۔ چودہ صوبوں میں چار سو چالیس نشستوں کے لیے چودہ ہزار سے زائد امیدوار میدان میں تھے جبکہ پندرہ ملین عراقی ووٹ دینے کے اہل تھے۔ عراق کے تین صوبے جو کرد علاقے میں ہیں وہاں ووٹنگ نہیں تھی جبکہ صوبہ کرکوک میں ووٹنگ ملتوی کردی گئی ہے۔ سنیچر کی ووٹنگ میں اتنی عوامی دلچسپی دیکھی گئی کہ ووٹنگ کے وقفے میں ایک گھنٹے کی توسیع کرنی پڑی، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سنی مسلمانوں نے گزشتہ انتخابات کے دوران ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ منتخب صوبائی کونسلیں صوبے کا گورنر نامزد کرتی ہیں جو انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے اور تعمیراتی کاموں اور مالیاتی منصوبوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ سنیچر کی ووٹنگ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت پر عوام کا ایک ریفرنڈم بھی سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم المالکی نے کونسلوں کے لیے پرامن ووٹنگ کی تعریف کی اور اسے تمام عراقیوں کے لیے فتح قرار دیا ہے۔ ووٹنگ سے قبل عراق کی بین الاقوامی سرحد بند کردی گئی تھی، بغداد اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفِک پر پابندیاں تھیں اور بعض علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق گزشتہ سال خواتین خودکش حملوں کے پس منظر میں حکومت نے سینکڑوں خواتین اساتذہ اور مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی اس موقع پر تعیناتی کی تھی تاکہ وہ ممکنہ خواتین خودکش بمباروں کی کوشش ناکام بناسکیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق ووٹروں کو انتخابی مرکز پر پہنچنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ انتخابی مراکز عام طور پر سکولوں میں بنائے گئےتھے۔
سابق حکمران صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں جب ووٹنگ شروع ہوئی تو انتخابی مراکز کے قریب مارٹر کے کچھ گولے گرے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں میں ایک شخص صرف زخمی ہوا یا ہلاک ہوگیا ہے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ملیں کہ کئی لوگوں کو انتخابی مراکز سے اس لیے واپس کر دیا گیا کیونکہ ان کا نام ووٹروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ووٹنگ کی مانیٹرِنگ کے لیے سینکڑوں عالمی مبصر اور عراقی سیاسی جماعتوں کے مقامی کارکن بھی انتخابی مراکز پر موجود تھے۔ عراق کے اہم شیعہ رہنما عبدالعزیز الحکیم نے انتخابات کو ترقی کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ سنیچر کی ووٹنگ سے ملک میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صبح میں ووٹنگ سستی سے شروع ہوئی لیکن بعد میں اس میں کافی تیزی آئی اور انتخابی مراکز کی جانب جانے والے ووٹروں میں خوشی کا ایک ماحول دیکھا گیا۔ دارالحکومت بغداد میں حامد نامی ایک ووٹر نے رائٹرز خبررساں ادارے کو بتایا: ’یہ ہمارے لیے بڑا موقع ہے، ایک عظیم دن ہے، کہ بغیر کسی مداخلت یا دباؤ کے آزادانہ طور پر ووٹ دے سکتے ہیں۔‘ عراق کے سنی علاقوں میں بھی ووٹنگ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ صوبہ انبار میں انتخابی کمیشن کے سربراہ نے بتایا کہ انہیں صوبے میں ساٹھ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کی امید ہے۔ اس صوبے میں سن دو ہزار پانچ کے انتخابات میں دو فیصد سے بھی کم ووٹنگ ہوئی تھی۔ بعض سنی رہنماؤں نے گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کو غلط قراردیا۔ سنی رہنما خالد العظیمی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں نقصان ہوا کیونکہ ہم نے ووٹ نہیں دیا تھا اور ہمیں اس کا نتیجہ فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں دیکھنے کو ملا۔‘ انتخابی ماہرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ کیا شیعہ برادری کے ووٹر مذہبی جماعتوں سے ہٹ کر اس بار سیکولر اور قوم پرست جماعتوں کو ووٹ دیں گے۔ |
اسی بارے میں عراقی انتخابات: سکیورٹی سخت31 January, 2009 | آس پاس عراق: مزار پر حملہ، 35 ہلاک04 January, 2009 | آس پاس عراق: محرم میں عورتوں پر پابندی07 January, 2009 | آس پاس ’افغانستان، عراق پر مشکل فیصلے‘29 January, 2009 | آس پاس حوصلہ افزائی کے لیےجوتےکامجسمہ30 January, 2009 | آس پاس امریکی فوج، خودکشی میں اضافہ30 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||