BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 January, 2009, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ووٹنگ پرامن، ہائی ٹرن آؤٹ
سنیچر کی ووٹنگ میں پندرہ ملین عراقی ووٹنگ کے اہل تھے

عراق میں صوبائی کونسلوں کے لئے سنیچر کے روز ملک کے اٹھارہ میں سے چودہ صوبوں میں پرامن ووٹنگ ہوئی ہے جس کے دوران ٹرن آؤٹ اچھا رہا ہے۔

چودہ صوبوں میں چار سو چالیس نشستوں کے لیے چودہ ہزار سے زائد امیدوار میدان میں تھے جبکہ پندرہ ملین عراقی ووٹ دینے کے اہل تھے۔ عراق کے تین صوبے جو کرد علاقے میں ہیں وہاں ووٹنگ نہیں تھی جبکہ صوبہ کرکوک میں ووٹنگ ملتوی کردی گئی ہے۔

سنیچر کی ووٹنگ میں اتنی عوامی دلچسپی دیکھی گئی کہ ووٹنگ کے وقفے میں ایک گھنٹے کی توسیع کرنی پڑی، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سنی مسلمانوں نے گزشتہ انتخابات کے دوران ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔

منتخب صوبائی کونسلیں صوبے کا گورنر نامزد کرتی ہیں جو انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے اور تعمیراتی کاموں اور مالیاتی منصوبوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

 سنیچر کی ووٹنگ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت پر عوام کا ایک ریفرنڈم بھی سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم المالکی نے کونسلوں کے لیے پرامن ووٹنگ کی تعریف کی اور اسے تمام عراقیوں کے لیے فتح قرار دیا ہے۔
چار برسوں کے دوران پہلی بار قومی سطح پر ہونے والے ووٹنگ کو اس سال عام انتخابات سے قبل عراق کے استحکام کا ایک ٹیسٹ سمجھا جارہا ہے۔ ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار انتخابی علاقوں میں سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

سنیچر کی ووٹنگ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت پر عوام کا ایک ریفرنڈم بھی سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم المالکی نے کونسلوں کے لیے پرامن ووٹنگ کی تعریف کی اور اسے تمام عراقیوں کے لیے فتح قرار دیا ہے۔

ووٹنگ سے قبل عراق کی بین الاقوامی سرحد بند کردی گئی تھی، بغداد اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفِک پر پابندیاں تھیں اور بعض علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق گزشتہ سال خواتین خودکش حملوں کے پس منظر میں حکومت نے سینکڑوں خواتین اساتذہ اور مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی اس موقع پر تعیناتی کی تھی تاکہ وہ ممکنہ خواتین خودکش بمباروں کی کوشش ناکام بناسکیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ووٹروں کو انتخابی مرکز پر پہنچنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ انتخابی مراکز عام طور پر سکولوں میں بنائے گئےتھے۔

وزیراعظم المالکی ووٹ دیتے ہوئے
عراقی اور امریکی فوجی کمانڈروں کی وارننگ کے باوجود تشدد کے کوئی بڑے واقعات نہیں ہوئے اور ووٹنگ پرامن رہی۔

سابق حکمران صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں جب ووٹنگ شروع ہوئی تو انتخابی مراکز کے قریب مارٹر کے کچھ گولے گرے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں میں ایک شخص صرف زخمی ہوا یا ہلاک ہوگیا ہے۔

اس طرح کی اطلاعات بھی ملیں کہ کئی لوگوں کو انتخابی مراکز سے اس لیے واپس کر دیا گیا کیونکہ ان کا نام ووٹروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔

ووٹنگ کی مانیٹرِنگ کے لیے سینکڑوں عالمی مبصر اور عراقی سیاسی جماعتوں کے مقامی کارکن بھی انتخابی مراکز پر موجود تھے۔

عراق کے اہم شیعہ رہنما عبدالعزیز الحکیم نے انتخابات کو ترقی کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ سنیچر کی ووٹنگ سے ملک میں بڑی تبدیلی آئے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صبح میں ووٹنگ سستی سے شروع ہوئی لیکن بعد میں اس میں کافی تیزی آئی اور انتخابی مراکز کی جانب جانے والے ووٹروں میں خوشی کا ایک ماحول دیکھا گیا۔

دارالحکومت بغداد میں حامد نامی ایک ووٹر نے رائٹرز خبررساں ادارے کو بتایا: ’یہ ہمارے لیے بڑا موقع ہے، ایک عظیم دن ہے، کہ بغیر کسی مداخلت یا دباؤ کے آزادانہ طور پر ووٹ دے سکتے ہیں۔‘

عراق کے سنی علاقوں میں بھی ووٹنگ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ صوبہ انبار میں انتخابی کمیشن کے سربراہ نے بتایا کہ انہیں صوبے میں ساٹھ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کی امید ہے۔ اس صوبے میں سن دو ہزار پانچ کے انتخابات میں دو فیصد سے بھی کم ووٹنگ ہوئی تھی۔

بعض سنی رہنماؤں نے گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کو غلط قراردیا۔ سنی رہنما خالد العظیمی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں نقصان ہوا کیونکہ ہم نے ووٹ نہیں دیا تھا اور ہمیں اس کا نتیجہ فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں دیکھنے کو ملا۔‘

انتخابی ماہرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ کیا شیعہ برادری کے ووٹر مذہبی جماعتوں سے ہٹ کر اس بار سیکولر اور قوم پرست جماعتوں کو ووٹ دیں گے۔

اجتماعی قبربغداد میں
سو لاشوں پر مشتمل اجتماعی قبر دریافت
قبائلیالقاعدہ:نئی ویڈیو
پاکستان میں العراقی کا ویڈیو پیغام
برطانوی فوجعراق سے انخلاء
برطانوی فوج کے انخلاء کا فیصلہ اسی سال متوقع
 عراق’طاقت کی جنگ‘
عراق میں بنیادی مسئلہ وہیں موجود ہے:پینٹاگون
 عراق’سنز آف عراق‘
القاعدہ مخالف ملیشیا کی تنخواہ عراق کا ذمہ
گرٹروڈ بیلعراق کی ’آزادی‘
خاتون نے عراق میں یہ سب پہلے بھی دیکھا
فائل فوٹوجوتے کا مجسمہ
منتظر الزیدی کی عزت افزائی کے لیے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد