عراق: فوجی انخلاء کا فیصلہ متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کومعلوم ہوا ہے کہ عراق سے برطانوی فوج کے انخلاء کا حتمی فیصلہ اس سال کے آخر میں متوقع ہے۔ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال کے پس منظر میں، جو کہ حالیہ مہینوں میں کافی بہتر ہوچکی ہے، برطانوی فوج کے انخلاء کے بارے میں بحث شروع ہو چکی ہے۔ اس وقت برطانوی وزراء کو عراق میں تعینات چار ہزار فوجیوں کو وطن واپس بلانے کے لیے سخت دباؤ کا سامنا ہے جبکہ افعانستان کے حوالے سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عراق میں فوجیوں میں بتدریج کمی کرکے ان کی تعداد ڈھائی ہزار کرنے کا منصوبہ مارچ میں التوا کا شکار ہو گیا تھا۔ جس کے بعد بصرہ میں شدید لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ برطانیہ نے گزشتہ سال دسمبر میں بصرہ کی سکیورٹی کی ذمہ داری عراق کے حوالے کر دی تھی۔ ابتدائی طور پرسنہ دو ہزار تین میں جب فوجی سرگرمیاں عروج پر تھیں عراق میں برطانیہ کےچھبیس ہزار فوجی تعینات تھے۔ ڈیفنس سیکریٹری ڈیس براؤن جب اپنےحالیہ دورے میں بصرہ کی گلیوں میں گھومے پھرے تو انہوں نے اسے ایک مختلف اور بدلہ ہوا شہر قرار دیا۔ بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار نک رابنسن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ حکومت فوجیوں کی تعداد کے بارے میں اگلا اعلان جولائی میں کیا جائے گا۔ تاہم مکمل انخلاء کا اعلان اس لمحے شاید ممکن نہ ہو۔ کیونکہ کسی بھی سیاسی اعلان کے بعد فوجیوں کے انخلاء میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ تاہم وزارت دفاع کا کہنا ہے عراق سے فوجی انخلاء کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے سال کے اواخر میں حتمی اعلان کے بارے میں آراء ’قیاس آرائیوں‘ پر مشتمل ہیں۔ | اسی بارے میں بصرہ:فوجی آپریشن میں سات ہلاک19 April, 2008 | آس پاس ’عراق سے انخلاء کا راستہ نہیں‘07 April, 2008 | آس پاس عراق : فوجیوں کی واپسی یا دکھاوا16 September, 2007 | آس پاس عراق: انسانی بحران بد سے بدتر30 July, 2007 | آس پاس عراق کا خونی دریا17 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||