BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2008, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ مخالف ملیشیا، تنخواہ عراق کا ذمہ

 عراق
بیس فیصد جنگجوؤں کو عراق کی سکیورٹی فورسز میں شامل کرلیا جائےگا
عراق کی حکومت نے اب ان ایک لاکھ سنی عرب لوگوں کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے جنہوں نے القاعدہ کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا۔

’سنز آف عراق‘ یا اویکننگ کونسل کہلانے والے اِس گروہ کی تشکیل کو عراق میں تشدد کی ڈرامائی کمی کی وجہ بتایا جاتا ہے۔

عراق کے معاملے میں ویسے تو یہ اکثر ہی کہا جاتا ہے لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی عراق کی تاریخ کا ایک خطرناک اور اہم دور ہے۔ اگر صاف الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ’اویکننگ کاؤنسلز‘ دراصل ایک طرح کی سنی ملیشیا فورس ہے جنہیں امریکہ نے اس بات کے پیسے دیے تھے کہ وہ اُن پرگولی نہ چلائیں۔

پہلی مرتبہ دو ہزار چھ میں تشکیل دیے گئے اِس گروپ میں اب تقریباً ایک لاکھ عراقی شامل ہیں جن میں سے کئی ایسے سابق عسکریت پسند ہیں جنہوں نے اب اپنی بندوقوں کا رخ القاعدہ کی جانب موڑ دیا ہے۔

اس نئی تبدیلی میں ان کونسلوں کے کنٹرول اور اِن کی تنخواہوں کی ذمہ داری اب امریکہ سے عراق کی حکومت کو بتدریج سونپی جا رہی ہے۔ آخری ہدف یہ ہے کہ اِن میں سے بیس فیصد جنگجوؤں کو عراق کی سکیورٹی فورسز میں شامل کرلیا جائےگا جبکہ بقیہ دوسری سرکاری اور نجی نوکریوں میں کھپا لیے جائیں گے۔

لیکن سرِدست اِن کاؤنسلوں اور بغداد میں شیعہ اکثریت والی حکومت کے درمیان اعتماد کا انتہائی فقدان ہے۔ کاؤنسلوں کو ڈر ہے کہ اُن کے لیڈروں کو حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ عراق کی حکومت کے لیے انہیں سابقہ عسکریت پسندوں کے بجائے کچھ اور سمجھنا مشکل ہے۔

ادھر امریکی دعا کررہے ہیں کہ ایسا نہ ہو اور وہ عراق کی حکومت کو یہ سمجھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے کہ اگر اِن لوگوں کو کھپایا نہ گیا تو یہ ہزاروں بیروزگار فوجی تربیت یافتہ مسلح نوجوان کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ معاملہ کتنی خوش اسلوبی سے سنبھالا جاتا ہے اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ عراق اس وقت کس حد تک مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ جیسا کہ پینٹاگون کی تازہ اور خبردار کر دینے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کے حاصل کیےگئے اہداف اُس وقت تک نازک ہی رہیں گے جب تک عراق کے شیعہ سنی اور کرد عراق کے ایک مستقبل پر اتفاق نہیں کر لیتے اور یہ ایک ایسا ہدف ہے جو ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

 عراق’طاقت کی جنگ‘
عراق میں بنیادی مسئلہ وہیں موجود ہے:پینٹاگون
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد