القاعدہ مخالف ملیشیا، تنخواہ عراق کا ذمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی حکومت نے اب ان ایک لاکھ سنی عرب لوگوں کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے جنہوں نے القاعدہ کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ ’سنز آف عراق‘ یا اویکننگ کونسل کہلانے والے اِس گروہ کی تشکیل کو عراق میں تشدد کی ڈرامائی کمی کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ عراق کے معاملے میں ویسے تو یہ اکثر ہی کہا جاتا ہے لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی عراق کی تاریخ کا ایک خطرناک اور اہم دور ہے۔ اگر صاف الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ’اویکننگ کاؤنسلز‘ دراصل ایک طرح کی سنی ملیشیا فورس ہے جنہیں امریکہ نے اس بات کے پیسے دیے تھے کہ وہ اُن پرگولی نہ چلائیں۔ پہلی مرتبہ دو ہزار چھ میں تشکیل دیے گئے اِس گروپ میں اب تقریباً ایک لاکھ عراقی شامل ہیں جن میں سے کئی ایسے سابق عسکریت پسند ہیں جنہوں نے اب اپنی بندوقوں کا رخ القاعدہ کی جانب موڑ دیا ہے۔ اس نئی تبدیلی میں ان کونسلوں کے کنٹرول اور اِن کی تنخواہوں کی ذمہ داری اب امریکہ سے عراق کی حکومت کو بتدریج سونپی جا رہی ہے۔ آخری ہدف یہ ہے کہ اِن میں سے بیس فیصد جنگجوؤں کو عراق کی سکیورٹی فورسز میں شامل کرلیا جائےگا جبکہ بقیہ دوسری سرکاری اور نجی نوکریوں میں کھپا لیے جائیں گے۔ لیکن سرِدست اِن کاؤنسلوں اور بغداد میں شیعہ اکثریت والی حکومت کے درمیان اعتماد کا انتہائی فقدان ہے۔ کاؤنسلوں کو ڈر ہے کہ اُن کے لیڈروں کو حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ عراق کی حکومت کے لیے انہیں سابقہ عسکریت پسندوں کے بجائے کچھ اور سمجھنا مشکل ہے۔ ادھر امریکی دعا کررہے ہیں کہ ایسا نہ ہو اور وہ عراق کی حکومت کو یہ سمجھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے کہ اگر اِن لوگوں کو کھپایا نہ گیا تو یہ ہزاروں بیروزگار فوجی تربیت یافتہ مسلح نوجوان کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ معاملہ کتنی خوش اسلوبی سے سنبھالا جاتا ہے اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ عراق اس وقت کس حد تک مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ جیسا کہ پینٹاگون کی تازہ اور خبردار کر دینے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کے حاصل کیےگئے اہداف اُس وقت تک نازک ہی رہیں گے جب تک عراق کے شیعہ سنی اور کرد عراق کے ایک مستقبل پر اتفاق نہیں کر لیتے اور یہ ایک ایسا ہدف ہے جو ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق، کنٹرول نئے جنرل کے حوالے 16 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس براہِ راست امریکی فوجی کارروائی18 September, 2008 | آس پاس انخلاء کے معاہدے میں رکاوٹیں18 September, 2008 | آس پاس عراق:امریکی حملے میں شہری ہلاکتیں19 September, 2008 | آس پاس بغداد دھماکوں میں 23 افراد ہلاک28 September, 2008 | آس پاس عراق بم حملوں میں بتیس ہلاک29 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||