عراق بم حملوں میں بتیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پولیس نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں تازہ بم حملوں میں بتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بارہ افراد اس وقت مارے گئے جب شہر کے جنوب میں افطاری سے ذرا پہلے ایک کار بم حملہ ہوا۔ دو بم حملے شام کے وقت کرادہ کے علاقے میں ہوئے جن میں انیس افراد مارے گئے اور کم از کم ستر زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بغداد کے مغرب میں بھی ایک کار بم حملہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے ایک سینیئر کمانڈر میجر جنرل جیفری ہیمنڈ نے کہا تھا کہ گزشتہ تین برس کے دوران اس سال رمضان کے مہینے میں نسبتاً کم تشدد ہوا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تشدد کی لہر بڑھی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بغداد میں پہلا دھماکہ دوپہر کے وقت جنوبی بغداد کے علاقے میں منی بس میں رکھے ہوئے دھماکہ خیز کے پھٹنے سے ہوا۔ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت لوگ افطار کے سامان کی خریداری میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے میں بارہ افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے۔ لگ بھگ اسی وقت ایک مارکیٹ کی کار پارکنگ میں بھی دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص مارا گیا۔ ان دو دھماکوں کے کچھ دیر بعد جب لوگ افطاری کر چکے تھے تو کرادہ کے ایک مصروف علاقے میں سڑک پر رکھا ہوا بم پھٹ گیا اور ساتھ ہی کار بم دھماکہ ہوگیا۔ اس وقت وہاں لوگ عید کے سلسے میں شاپنگ کر رہے تھے اور تحائف کی خریداری کر رہے تھے۔ عراق میں عید الفطر منگل کو منائی جا رہی ہے۔ عراقی حکومت کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ مزاحمت کار یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ بغداد میں کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ عراق کی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تشدد بڑھا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں ان دنوں مختلف جگہوں پر تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پولیس اور سنی عرب آگاہی کی مشترکہ تحریک کے پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ آٹھ بچے بھی مارے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں فلوجہ اور تلعفر میں پچیس ہلاک09 September, 2004 | آس پاس تلعفر میں بم حملہ، 17 افراد ہلاک09 May, 2006 | آس پاس فلوجہ اور تلعفر پر شدید بمباری10 September, 2004 | آس پاس عراق: ٹرک بم حملہ، 105 ہلاک 07 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||