تلعفر میں بم حملہ، 17 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمالی شہر تلعفر میں ایک کار بم دھماکے میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔ تلعفر شام کے ساتھ عراقی سرحد کے قریب واقع ہے ۔ پولیس کے مطابق بم شام کے سرحد سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ایک ٹرک میں نصب کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ امریکی اور عراقی افواج کا کہنا ہے کہ تلعفر عراقی مزاحمتکاروں او غیر ملکی جنگجوؤں کا گڑھ رہا ہے۔ ستمبر میں ان افواج نے تلعفر میں ایک بڑا آپریشن کیا تھا۔ اکتوبر میں اسی شہر میں ایک خودکش بم حملے میں تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تازہ بم دھماکہ اس وقت ہوا جب بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ لوگ دکانوں کے بند ہونے سے پہلے خریداری میں مصروف تھے۔ اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے انہیں امریکی ڈاکٹروں نے امداد دی۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 سے بھی زیادہ ہے اور زخمیوں کی تعداد بھی ستر کے قریب ہو سکتی ہے۔ امریکیوں نے پچھلے سال تلعفر کا کنٹرول سنبھالا تھا اور حال میں امریکی صدر جارج بش نے اس کی مثال دے کر کہا تھا کہ ’یہ ایک آزاد شہر ہے اور اس کو دیکھ کر ہماری ایک آزاد عراق کے لیئے توقعات اورمضبوط ہوتی ہیں۔‘ | اسی بارے میں تلعفر: سینکڑوں جانوں کو خطرہ11 September, 2005 | آس پاس عراق: ’141 مزاحمت کار ہلاک‘ 10 September, 2005 | صفحۂ اول عراق: پانچ سو مزاحمت کار گرفتار05 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||