تلعفر: سینکڑوں جانوں کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امدای اداروں نے خبردار کیا ہے کہ تلعفر میں جاری بڑی فوجی کاروائی کے نتیجے میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ واقعہ ہو سکتا ہے جس میں سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہو نے کا اندیشہ ہے۔ عراق کے شمال مغرب میں شام کی سرحد کے قریب امریکی فوجوں کی مدد سے عراقی فوجیں تلعفر نامی شہر میں مزاحمت کاروں کے خلاف کاروائی کر رہی ہیں۔ اس کاروائی میں لڑاکا ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ اب تک عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق کم از کم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہر کے باسیوں کی ایک بہت بڑی تعداد پہلے ہی شہر سے ہجرت کر چکی ہے اور سر چھپانے کیلئے مضافاتی علاقوں کے کیمپوں میں مقیم ہے۔ عراقی ایجنسی کے ایک ڈاکٹر سلمان اسمعیل نے جو ان کیمپوں کا دورہ کرتے رہے ہیں کہا کے تلعفر میں حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ کیمپوں میں آئے ہوئے شہریوں نے انہیں بتایا کہ تلعفر میں فوجی ٹینک گشت کر رہے ہیں اور پورا علاقہ گولہ باری اور میزائلوں کے وجہ سے تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلعفر میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور شاید بہت سے لوگ عمارتوں کے ملبے میں زندہ دفن ہو گئے ہیں۔ شہر سے باہر نکلنے والی آبادی میں خواتین اور بچوں کو تو کیمپ تک پہنچنے دیا گیا لیکن جوان مردوں کوگرفتار کر کے موصل کے قریب جیل پہنچا دیا گیا جبکہ کچھ کو نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سلمان اسماعیل کا کہنا تھا کہا کہ طبی امداد دینے والوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، تل عفر کا ہسپتال تباہ ہو چکا ہے، صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے بچے ہیضے کا شکار ہورہے ہیں۔ ادھر سیکیورٹی اہلکاروں نے شام سے ملنے والی قریبی سرحد کو بند کردیا ہے اور ان علاقوں میں غیر ملکی مزاحمت کاروں کی آمد روکنے کیلیے کرفیو نافذ کردیا ہے۔ فوجی کاروائی کے بارے میں سنی عربوں کی تنظیم جمیعت علمائے اسلامیہ نے کہا ہے کہ تل عفر میں قتل عام جاری ہے۔ تاہم مگر عراقی وزیر اعظم کے ایک ترجمان حیدر العبادی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ قتل عام کی بات حقیقت سے بالکل دور ہے۔ ہم شہر میں جاری ایک ایک کاروائی سے آگاہ ہیں اور ہر چیز کی نگرانی کر ہے ہیں۔ یہ الزام سرا سر غلط ہے۔ اور اس الزام کا مقصد شر انگیزی کو ہوا دینا ہے۔‘ تلعفر میں کافی عرصے سے اس قسم کی کارروائی کی توقع کی جا رہی تھی اور اس سے پہلے حکام شہر کے دو لاکھ کے قریب باسیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے بھی کہہ چکے ہیں۔ گزشتہ سال بھی امریکی فوج نے ایک کارروائی کی تھی جس کے بعد کہا گیا تھا کہ مزاحمت کار وہاں سے نکل گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||