انخلاء کے معاہدے میں رکاوٹیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوج کے مستقبل کے بارے میں امریکہ کی حکومت سے ہونے والے مذاکرات میں ابھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے نوری المالکی نے کہا کہ اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت سے اس بات پر پہلے ہی سے اتفاق ہو گیا ہے کہ سن دو ہزار گیارہ تک تمام امریکی فوجی عراق سے نکال لیے جائیں گے۔ اس وقت عراق میں امریکہ کے ایک لاکھ سینتالیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے مذاکرات کرنے والوں نے فوجیوں کے انخلاء کے بارے میں عراق کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ متنازعہ معاملات کو طے کرنے کے لیے امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ مسلسل رابط جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تنازعہ امریکی فوجیوں کو عراق کی عدالتوں میں مقدمات سے مستثیٰ قرار دیئے جانے اور عراقی شہریوں کو حراست میں رکھنے کے اختیارات پر ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عراق میں امریکی فوجیں بھیجنے کے لیے دی جانی والی منظوری کی مدت کے سن دو ہزار آٹھ میں ختم ہو جانے کے بعد امریکی فوج کے عراق میں مستقبل کے بارے میں دونوں حکومتیں ابھی کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکیں ہیں۔ وہ اس بات پر بھی متفق نہیں ہو سکیں ہیں کہ عراق میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کون کرے گا۔ نوری المالکی نے کہا کہ عراق کی طرف سے دی جانے والی تجاویز عراق کی داخلی خودمختاری سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق نے اس سلسلے میں لچک دکھائی ہے اور امید ہے کہ امریکہ بھی لچکدار روئیے کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے عراق کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز پر عملدرآمد کردیا تو معاہدہ جلدطے پا جائے گا لیکن اگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس سلسلے میں رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی اور پھر نئے سرے سے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ امریکہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔ | اسی بارے میں فوج عراق سےکم افغانستان میں زیادہ09 September, 2008 | آس پاس پاکستان اہم میدان جنگ ہے: بش09 September, 2008 | آس پاس عراق سے فوجوں کی جزوی واپسی09 September, 2008 | آس پاس عراق خودکش دھماکہ 25 ہلاک16 September, 2008 | آس پاس عراق، کنٹرول نئے جنرل کے حوالے 16 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||