عراق سے فوجوں کی جزوی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش فروری تک عراق سے آٹھ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے اور افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ صدر بش یہ اعلان منگل کے روز اپنی ایک تقریر میں کریں گے۔ نئے منصوبے کے تحت عراق میں سکیورٹی صورتِِ حال کی بہتری کے ساتھ آنے والے مہینوں میں افغانستان میں مزید فوج بھیجی جائے گی۔ امریکی میرین فوجیوں کی ایک بٹالین جسے نومبر میں عراق بھیجا جانا تھا اب اسے افغانستان بھیجا جائے گا جس کے بعد لڑاکا فوج کے ایک بریگیڈ کو افغانستان روانہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک لاکھ تینتیس ہزار امریکی فوجی عراق میں ہیں جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد صرف تینتیس ہزار ہے۔ ایک لمبے عرصہ تک امریکی فوجوں کی عراق اور افغانستان میں تعیناتی سے متعلق فیصلہ نئے امریکی صدر پر چھوڑا جائےگا جو نومبر میں انتخابات کے بعد جنوری میں اپنا عہدے سنبھالے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق گزشتہ سال امریکی فوج میں اضافے کے بعد عراق میں تشدد کے واقعات میں بتدریج کمی نے صدر بش کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی فوج پر سے کچھ دباؤ کم کریں۔ اپنے جنرلوں سے مشورے کے بعد منگل کو صدر بش اس بات کا اعلان کریں گے کہ نومبر میں عراقی صوبے الانبار میں تعیناتی کے لیے تیار امریکی میرین بٹالین امریکی واپس آ جائے گا اور اس کی جگہ پر کوئی نئی تعیناتی نہیں ہو گی۔ ایک ہزار میرین فوجیوں کے علاوہ ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار امریکی فوجی اور چونتیس سو امداد عملہ بھی عراق سے واپس بلا لیا جائے گا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق فوج کی واپسی کے اس اعلان کے بعد مزید دستے بھی واپس آئیں گے لیکن امریکی فوج کا ایک بڑا حصہ پھر بھی عراق میں رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||