BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 00:57 GMT 05:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابو غریب کا بھوت
ابو غریب کے قیدی(فائل فوٹو)
گیارہ فوجیوں کو مجرم قرار دیاجاچکاہے
امریکہ میں سینٹ کی ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراق میں ابو غریب جیل اور خلیج گوانتانامو میں امریکی جیل میں ہونے والی زیادتیوں کی ذمہ داری سابق وزیر دفاع ڈانلڈ رمزفیلڈ اور دیگر حکام پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تصاویر چار سال قبل منظر عام پر آئی تھیں۔

امریکی سینیٹ میں فوجی امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اعلیٰ حکام نے اپنی ذمہ داری نچلے درجے کے فوجیوں پر ڈال دی تھی۔ ابو غریب جیل میں ہونے والی زیادتیوں کے مقدمے میں گیارہ فوجیوں کو مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

امریکہ کے سابق وزیر دفاع رمزفیلڈ کے ایک رفیق کار نے سینیٹ کی رپورٹ کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ زیادتیاں چند لوگوں نے کی تھیں جنہیں اپنے کیے کی سزا مل چکی ہے۔

تصاویر چار سال پہلے سامنے آئیں
ابو غریب جیل کے بارے میں منظر عام پر آنے والی تصاویر میں قیدیوں پر کتے بھونک رہے تھے، انہیں ننگا کیا جا رہا تھا اور ایسے تاروں میں لپیٹے ہوئے دکھایا گیا جیسے انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے ہوں۔ ان تصاویر کا سامنے آنا عراق کی جنگ کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ اعلی حکام کی طرف سے اپنے کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے چھوٹے عہدوں پر فائز فوجیوں پر ذمہ داری ڈالنا ناقابل فہم ہے‘۔

ابو غریب جیل کے سابق قیدی نے بتایا کہ جیل میں ان کے کپڑے اتار کر ٹھنڈا پانی ڈالا جاتا تھا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور ان پر کتوں کو بھونکنے کے لیے چھوڑا گیا۔ ایک اور تینتالیس سالہ قیدی عماد نے بتایا کے انہیں پندرہ روز تک ننگا رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں دیوار کے ساتھ پٹخا جاتا تھا۔

’امریکی ساکھ کے لیے اچھا نہیں‘
ابو غریب دنیا کی بدنام ترین جیل ہے جہاں دہائیوں سے صدام حسین کے دور میں قیدیوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ بہت سے عراقیوں کی نظر میں یہ عمل امریکیوں کی موجودگی میں بھی جاری رہا۔

عراق میں قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ ’اب حالات بالکل مختلف ہیں‘۔

ابو غریب کے تینتالیس سالہ سابق قیدی عماد نے کہا کہ ان کے بچے ہر بار امریکیوں کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔ ’ہم پر امن لوگ ہیں۔ جو کچھ ابو غریب میں ہوا وہ امریکیوں کی ساکھ کے لیے ٹھیک نہیں‘۔

اسی بارے میں
ابو غریب کی نئی تصاویر
15 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد