ابو غریب: مزید اہلکار زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمہ دفاع کےافسران کا کہنا ہے کہ عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی سے متعلق تحقیقات میں کم از کم دو درجن فوجی اور دیگر اہلکار الزامات کی زد میں آ سکتے ہیں ۔ سات فوجی اہلکاروں پر پہلے ہی الزامات عائد کئے جا چکے ہیں ۔افسران نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگلے ہفتے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں توقع ہے عراق میں سینئر امریکی کمانڈر وں کو مناسب رہنمائی نہ کرنےاور جیل میں سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی پر آڑے ہاتھوں لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ امریکی طبی عملے کے اہلکاروں پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنی تشویش کے بارے میں مطلع نہیں کیا پنٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا دائرہ پہلےکے مقابلےکہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے کچھ الزامات کو پنٹاگون نے تسلیم بھی کیا تھا۔ لیکن بش انتظامیہ کے مخالفین غالباً اس سے مطمئین نہیں ہوں گے جن کا خیال ہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اوپر کی سطح تک جاتی ہے جس میں صدر بش بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||