’عراق کو پھر بھی فائدہ پہنچا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے کہا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی سے ہونے والی پبلسٹی کے باوجود عراق کو قابض اتحادیوں سے فائدہ پہنچا ہے۔ صدر بش کے الفاظ دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق کی تعمیرِ نو میں فوجیوں کا عراقی عوام کےساتھ کام کرنا امریکہ کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اتحادی فوج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ انہیں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاع جنوری میں مل گئی تھی۔
اتحادی فوج کے ترجمان ڈین سینر نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’ایمبیسیڈر بریمر کو جنوری 2004 میں زیادتیوں کے الزامات سے آگاہ کر دیا گیا تھا‘۔ امریکی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ابو غریب جیل کو بند نہیں کیا جائے گا لیکن اب سٹاف پر زیادہ کنٹرول رہے گا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کہتے ہیں کہ عراقیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر نے پورے امریکہ کے عوام پر ناقابلِ یقین صدمے جیسا اثر چھوڑا ہے۔ امریکہ کے صدر بش نے سنیچر کو ہفتہ وار ریڈیو کے خطاب میں کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جیل میں بدسلوکی کا فعل چند افراد کا ہے اور یہ عراق میں موجود سب امریکی فوجیوں کے کردار کی عکاسی نہیں کرتا۔ البتہ صدر بش کی اس بات کو بھی چیلنج سامنا ہے۔ ایک امریکی پولیس کی خاتون سبرینہ ہرمین نے، جوعراق قیدیوں سے بدسلوکی کی ایک تصویر میں برہنہ قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہنس رہی ہیں، ایک امریکی اخبار کو ای میل میں لکھا کہ انہیں خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ قیدیوں کو تفتیش کے لیے تیار کرو اور ان کے لیے جیل کو جہنم بنا دو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||