BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 January, 2009, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان، نیٹواور امریکہ میں تفریق

افغانستان
فرانس اور جرمنی افغانستان میں فرنٹ لائن کے لیے فوج بھیجنے کی حامی نہیں بھرنا چاہتے
امریکی صدر باراک اوباما کو شاید جلد ہی معلوم ہو جائے کہ ان کا حلیفوں کے ساتھ ہنی مون مختصر رہے گا۔

کئی نیٹو ممالک صدر اوباما کا خیر مقدم کریں گے لیکن چند مشرقی یورپی ممالک جن کو ابھی بھی روس سے خطرہ ہے یہ نہیں چاہیں گے کہ ساری توجہ کسی اور جگہ ہو جائے۔ لیکن افغانستان اس ہنی مون کو مختصر کرنے کی وجہ بنے گا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے سوموار کے روز برسلز میں صاف الفاظ میں کہا ’میں اس بات کو نہیں مانتا کہ امریکہ سارا کام کرے ۔۔۔ یورپ کو مزید فوجی بھیجنے چاہیے اور اگر یہ نہیں تو سویلین کاموں کے لیے لوگ بھیجنے چاہیے۔‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے مطابق صدر اوباما یورپی حلیفوں کے مطالبات مانیں گے اور اس کے بدلے میں یورپی ممالک امریکہ کا ساتھ دیں گے۔ یورپی مطالبات میں گوانتانامو بند کرنا، واٹر بورڈنگ سے تشدد کرنا شامل ہیں۔

امریکی صدر اوباما امریکی توجہ عراق سے افغانستان پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں اور افغانستان میں فوج میں اضافہ کریں گے جو پالیسی عراق میں کامیاب رہی۔

لیکن اس پالیسی کے لیے مزید جنگ کی صلاحیت درکار ہے اور نیٹو کے ممالک بالخصوص فرانس اور جرمنی افغانستان میں فرنٹ لائن کے لیے فوج بھیجنے کی حامی نہیں بھرنا چاہتے۔ یہاں تک کہ برطانیہ بھی اتنی فوج نہیں بھیجے گا جتنی کی توقع امریکہ کر رہا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ’یورپی ممالک اگر یہ توقع کرتے ہیں کہ امریکہ گوانتانامو بند کردے گا، موسمی تبدیلی کے معاہدوں پر دستخط کردے گا، اہم معاملات میں یورپی قیادت کو تسلیم کرے گا اور بدلے میں یورپی ممالک کچھ نہ کریں جیسے کہ افغانستان تو ان ممالک کو دوبارہ سوچنا چاہیے۔ اس طرح کام نہیں ہوتے۔‘

اگر نیٹو ممالک توقعات پر پورا نہ اترے تو امریکہ اور یورپ کے لیے طویل مدتی اثرات اچھے نہ ہوں گے۔

نیٹو فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لیکن عراق میں نہیں تھے۔ اس لیے امریکہ افغانستان میں کسی قسم کی معذرت برداشت نہیں کریں گے۔

نیٹو کے ساٹھ سال پورے ہونے والے ہیں اور اگر صدر اوباما کی تجویز کردہ سکیورٹی پالیسی میں نیٹو کے ممبران افغانستان کے معاملے میں جوش و خروش نہیں دکھاتے تو مستقبل میں کشیدگی دیکھی جائے گی۔

نیٹو اب یہ بحث کرے گا کہ دور دراز ملک افغانستان میں جنگ کے بارے میں کیا کیا جائے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ نیٹو کی ذمہ داری ہے کہ اپنی سرحدوں کے دفاع کے مینڈیٹ سے باہر نکل کر وہ اپنا کردار ادا کرے۔

’دنیا ایک دم امن کا گہوارہ نہیں بن گئی۔ بین الاقوامی دہشت گردی، وسیع پیمانے پر تباہی کرنے والے ہتھیار اور ناکام ریاستوں میں اضافہ چند ممالک کا درد سر نہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ایران اور دیگر علاقائی ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔ تاہم اس تجویز پر مزید بات نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد